خطبات محمود (جلد 13) — Page 507
3 خطبات محمود سال ۶۱۹۳۲ ہونا چاہئے کہ ہم کسی خدمت کے بدلہ میں کسی معاوضہ کے طلب گار نہ ہوں۔ اور اپنے ملک کو بد امنی سے بچانے کے لئے کانگرسیوں سے بڑھ کر ایثار اور قربانی سے کام کریں۔ مجھے تعجب آتا ہے ابھی تک ہماری جماعت میں یہ بلندی پیدا نہیں ہوئی۔ کئی لوگ ہیں جو لکھ دیتے ہیں فلاں موقع پر میں نے گورنمنٹ کا فلاں کام کیا تھا۔ اب مجھے ضرورت ہے ، میرا فلاں کام کرا دیا جائے ۔ مجھے اس وقت یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس نے گویا میرے مونہہ پر چپیڑ مار دی۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ سوائے کسی ذاتی فائدہ کی تمنا کے ہم کیوں کام نہیں کر سکتے ۔ کشمیر کی تحریک میں ہی پندرہ میں غیر احمدیوں کی طرف سے خط آچکے ہیں کہ اب کشمیر کا کام ہو چکا ہے ہمارے لئے ملازمت کے حصول کی کوشش کریں۔ یہ نہایت ہی افسوسناک بات ہے اور یہی ہندوستانیوں میں نقص ہے کہ اول تو وہ کام نہیں کرتے اور جب کرتے ہیں تو معا خیال آجاتا ہے کہ ہمیں کچھ اس کے بدلہ میں ملنا چاہئے ۔ حالانکہ میرے نزدیک اگر ہم کوئی کام اس لئے کرتے ہیں کہ ہمیں اس کے بدلے میں کچھ ملے گا تو اس کام کے کرنے سے ڈوب مرنا بہتر ہے۔ پس ہمارا مقصد بلند ہونا چاہئے اور ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ایک طرف تو کانگرس کے امن شکن اصولوں کا مقابلہ کریں اور دوسری طرف گورنمنٹ کے خوشامدیوں سے شدید نفرت رکھیں۔ آج کل بم بازی اور حل و غارت ۔ اور قتل و غارت کے اکثر واقعات ہو رہے ہیں اور بلا وجہ لوگ لوگوں کا خون بہایا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ اتنی عجیب بات ہے کہ میں بعض دفعہ حیران ہو جاتا ہوں اور سوچا کرتا ہوں کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے۔ بسا اوقات کئی کئی منٹ میں نے اس امر پر غور کیا ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کو کس طرح قتل کر سکتا ہے۔ اور اگر دنیا میں انسانوں کے قتل کے واقعات نہ ہوتے تو یقینا میں ان لوگوں میں سے ہو تا جو یہ کہتے کہ ایک انسان کا دو سرے انسان کو قتل کرنا نا ممکنات میں سے ہے۔ جس طرح ایک اور ایک کا پچیس مانا نا ممکن ہوتا ہے اس طرح میں اس امر کو باور نہ کر سکتا۔ کیونکہ انسانی جان کوئی معمولی چیز نہیں۔ اگر ان الفاظ کو دیکھا جائے جو قرآن مجید نے استعمال فرمائے ہیں تو ان کے ماتحت انسان اللہ تعالیٰ کے ظہور کے لئے بنایا گیا ہے۔ پس اس صورت میں ایک انسان کو مارنے کے کیا معنی ہوئے۔ یہی کہ خدائی صفات کے ظہور کو مٹا دیا جائے۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس شخص کو تم نے مارا وہ ڈاکو یا بد معاش تھا۔ کیونکہ ہم ہزاروں ڈاکوؤں اور بد معاشوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ بعد میں نیک ہو جاتے ہیں۔ پس ایک انسان سرے انسان کو قتل کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتا۔ ہاں اگر عالم الغیب ہستی کا حکم ہو تو وہ دو سے بری