خطبات محمود (جلد 13) — Page 505
خطبات محمود ۵۰۵ سال ۱۹۳۲ء دوسری طرف میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلاتے ہیں کہ وہ حد درجہ کے لالچی دنیا دار خود غرض اور قوم فروش ہیں۔اِلَّا مَا شَاءَ اللہ میں کسی قوم کے تمام افراد کو ایسا نہیں سمجھتا۔اس کے مقابلہ میں میں کانگرس کے ایک طبقہ کو دیکھتا ہوں کہ اس میں ایثار ، قربانی اور سچا اخلاص پایا جاتا ہے۔بے شک کانگرسیوں کے اصول سے مجھے اختلاف ہے لیکن اگر میرے سامنے ذاتی دوستی کا سوال ہو تو میں ایک کانگرسی کو گورنمنٹ کے خوشامدی پر ترجیح دوں گا۔کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ یہ گورنمنٹ کے خیر خواہ کہلانے والے حد درجہ کے خود غرض لالچی اور نفس پرست واقع ہوئے ہیں۔اس کے مقابلہ میں مجھے جن کا نگر سیوں سے ملنے کا موقع ملا ہے میں نے دیکھا ہے کہ ہندوؤں میں زیادہ اور مسلمانوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو یقینا خیر خواہی اور بچے دل سے اپنے ملک کے لئے خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔اور گودہ غلط اصول پر قائم ہیں مگر ان کے دل میں ملکی ہمدردی موجزن ہے۔مگر صحیح اصول پر چلنے والے اتنے نفس پرست واقع ہوئے ہیں کہ اگر انہیں ذاتی فوائد کے لئے اپنے ہاتھوں سے ملک کو بھی دینا پڑے تو یہ ملک کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔بڑا معیار ترقی کا ان کے نزدیک یہ ہے کہ خان بہادر بن جائیں یا خان صاحب کا خطاب حاصل ہو جائے اور اگر اس میں انہیں کامیابی حاصل ہو جائے تو یوں ان کی توند پھولنا شروع ہو جائے گی کہ گویا ساری چربی ان کے پیٹ میں آگئی ہے۔محض دعاء محض جھوٹ ، محض فریب اور محض خود غرضی سے گورنمنٹ میں جھوٹی رپورٹیں لکھواتے ہیں اور اسی طرح اپنی قوم اور اپنے ملک کو فروخت کرنے کے مجرم بنتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں اگر کانگریس کی اب تک اصلاح نہیں ہوئی تو اس میں بہت کچھ دخل ان خود پرست لوگوں کا بھی ہے جو محض اپنی ذاتی عزت کے حصول کے لئے قوم اور ملک کو برباد کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے ہیں۔اور عزت بھی کیسی صرف نام کی بھلا کسی کو سر کا خطاب مل جانے سے کون سی بڑائی حاصل ہو جاتی ہے۔حقیقتاً کچھ بھی نہیں ملتا۔مگر نہ ملنے کے باوجود وہ ایسے خطابات کے حصول کے لئے ملک بیچنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔پچھلی ہی دفعہ جب میں شملہ گیا تو مجھے ایک سرکے متعلق بتایا گیا کہ اسے سر کا خطاب کس طرح ما - ایک مسودہ قانون تھا جس کے متعلق گورنمنٹ چاہتی تھی کہ پاس ہو جائے مگر ممبروں میں سے اکثر اس کے مخالف تھے۔گورنمنٹ نے اپنے ساتھ ممبر ملانے کی بہت کوشش کی مگر دو ممبر پھر بھی زیادہ رہے۔ایک شخص نے گورنمنٹ سے کہا کہ میں اس میں مدد دیتا ہوں۔ایک تو اس کا اپنا ہی