خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 46

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء ہے وہ کس حد تک صحیح ہے اور اس میں کیا ترمیم اور تفسیخ ہونی چاہئے ۔ وہ مین سال تک اس طرح کام کر کے دیکھو کتنی بیداری پیدا ہو جاتی ہے اس بات کا پورا پورا ریکارڈ ہونا چاہئے کہ فلاں مبلغ فلاں جگہ گیا اور اس نے یہ کام کیا اس کے چند ما چند ماہ بعد ایک اور کو وہیں بھیجا جائے جو دیکھے کہ پہلے حالات میں کس قدر تغیر واقعہ ہو گیا ہے۔ آیا اس کے بعد جماعت است ہو گئی ہے یا چست۔ اسی طرح ایک دو سرے کے کام کو چیک کراکر ان سے بہت کام لیا جا سکتا ہے۔ اور اس طرح جماعتوں میں بھی بیداری پیدا ہو سکتی ہے۔ مگر اب کام صرف تقریریں کرنا ہی سمجھ لیا گیا ہے اس لئے جہاں کوئی مبلغ جائے وہاں سے یہ لکھا آجاتا ہے کہ فلاں مولوی صاحب نے صرف دو گھنٹے تقریر کی ان کا خیال ہوتا ہے ۲۴ گھنٹے ہی تقریر کرنی چاہئے تھی۔ مگر انہیں شاید علم نہیں اگر اس طرح کیا جائے تو تھوڑے ہی عرصہ میں اس مبلغ کا جنازہ نکل جائے ۔ گلا ایسی چیز نہیں جس سے سارا دن کام لیا جاسکے ۔ ہاتھ پیروغیرہ ایسے اعضاء ہیں جن سے سارا دن کام لیا را دن کام لیا جا سکتا ہے مگر گلا اتنی دیر کام نہیں کر سکتا۔ عیسائی پادری ہفتہ وار تقریر کرتے ہیں اور وہ بھی پندرہ میں منٹ سے زیادہ نہیں۔ اگر کبھی وہ ایک گھنٹہ تقریر کر دیں تو سامعین شور مچا دیتے ہیں کہ ہمارا وقت ضائع کیا جا رہا ہے ۔ تو وہ ہفتہ میں صرف پندرہ میں منٹ ہی تقریر کرتے ہیں مگر ان کے ہاں ایک بیماری کا نام ہی Clergyman's sore throat ہے یعنی پادریوں کے گلے کی بیماری۔ گویا ان کو یہ بیماری اس وجہ سے ہو جاتی ہے کہ وہ ہفتہ میں چند منٹ تقریر کرتے ہیں مگر ہماری جماعت کے بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے مبلغین کا گلا لو ہے یا لکڑی کا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کم از کم دس بارہ گھنٹے ایک مبلغ بولتا رہے حالانکہ وہ جتنا بولتے ہیں میرے نزدیک وہ بھی زیادہ ہے ان سے بولنے کا کام کم اور نظام کا زیادہ لینا چاہئے اگر ہمارا مرکزی صیغہ اس طرح کام کرے تو بہت ترقی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور طریق ہے اس کا بھی تجربہ کر کے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ جنگ عظیم میں ایک جر من جنرل میکنسن نے ایک نیا طریق جنگ ایجاد کیا تھا اور اسے اس میں کامیابی بھی بہت ہوئی تھی اور شہرت بھی بہت حاصل کی تھی جس محاذ پر بھی وہ گیا اس نے فتح پائی روسی محاذ پر جرمنوں کو پے در پے شکستیں ہو رہی تھیں مگر اس نے جا کر روسیوں کو ایسی بری طرح شکست دی کہ کئی لاکھ روسی جر من دلدلوں میں پھنس کر تباہ ہو گئے پھر اسے رومانی محاذ پر بھیجا گیا وہاں بھی اس نے کامیابی حاصل کی۔ پھر آسٹریا جو جرمنی کا حلیف تھا اسے شکستیں ہو رہی تھیں ان کی مدد کے