خطبات محمود (جلد 13) — Page 499
خطبات محمود ۲۹۹ سال ۱۹۳۲ء ہمیں ملحد اور کافر کہنے لگ جائیں۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ صفات الہیہ کے ماتحت ہم جو نجات کا مفہوم دیکھتے ہیں وہ بالکل مختلف ہے اس سے جو عام لوگ سمجھ رہے ہیں۔ عام آدمی صرف اتنا ہی دیکھتے ہیں کہ میں فلاں پارٹی میں ہوں اور دوسرا شخص فلاں پارٹی میں۔ پس میرا جنت حاصل کرنے کا حق ہے لیکن دو سرا دوزخ میں جائے گا۔ حالانکہ اگر ہم اس امر کو صفات الہیہ کے ماتحت دیکھیں تو بسا اوقات جسے کوئی دوزخ کا اہل قرار دے رہا ہو گا جنت کا وارث ہو جائے گا۔ اور جنت کا اپنے آپ کو حقدار سمجھنے والا دوزخ میں گر جائے گا۔ اور ایسا ہوتا بھی ہے۔ لیکن کئی نادان ایسے ہوں گے کہ اگر میں اس کی مزید تشریح کروں تو وہ کہیں گے اس میں کچھ الحاد کا رنگ پایا جاتا ہے ۔ حالانکہ حقیقت ان کا ایسا کہنا اس بات کا نتیجہ ہو گا کہ انہیں خدا تعالیٰ کی صفات پر نگاہ دوڑانے کا موقع نہیں ملا اور مجھے خدا تعالی کی مختلف صفات دیکھنے کا موقع مل گیا۔ پس وہ ایماندار تو کہلائیں گے لیکن ان میں اور مجھ میں وہی فرق ہو گا جو بینا اور نابینا میں ہوتا ہے۔ پس اللہ تعالی کی طرف سے نیکیوں اور بدیوں کی اتنی اقسام ہیں اور حالات کے مطابق جو ان میں تغیر ہوتا ہے وہ اتنا وسیع ہے کہ بسا اوقات جس کو ہم نیکی سمجھ رہے ہوتے ہیں بدی ہوتی ہے۔ اور بسا اوقات جس کو ہم بدی سمجھ رہے ہوتے ہیں نیکی ہوتی ہے۔ کئی بے وقوف ایسے ہیں جو اب بھی کہہ دیتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی یہ بات کہ آپ اچھے کپڑے پہن لیتے اور اچھا کھانا کھا لیا کرتے تھے ہماری سمجھ میں نہیں آتی اور اس اعتراض کا حل بڑا مشکل ہے حالانکہ یہ محض جہالت کی بات ہے۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے لئے جو چیز بدی ہوتی ہے دوسرے ۔ جو چیز بدی ہوتی ہے دوسرے کے لئے نیکی ہو جاتی ہے ۔ رسول کریم میں ہم نے ایک دفعہ فرمایا فلاں کے ہاتھ میں میں کسری کے کنگن دیکھتا ہوں اور جس کے متعلق آپ نے فرمایادہ یادہ عورت نہیں بلکہ مرد تھا۔ اور مردوں کے لئے کنگن پہنانا جائز ہے۔ مگر رسول کریم میم نے فرمایا میں نے ایسے دیکھا ہے۔ اس کے مقابلہ میں ایک دفعہ حضرت عمر کو رسول کریم میں ہم نے ریشمی جبہ دیا۔ آپ اسے پہن کر مجلس میں آئے ۔ جب رسول کریم میں ہم نے دیکھا تو آپ کا چہرہ مبار آپ کا چہرہ مبارک غصہ سے سُرخ ہو گیا۔ اور آپ نے فرمایا یہ کیا کیا۔ حضرت عمر نے فرمایا یا رسول اللہ ! آپ نے ہی تو مجھے یہ ریشمی جبہ دیا تھا۔ آپ نے فرمایا دینے کے یہ معنے تو نہیں تھے کہ خود پہن لو ۔ اب ہے۔ اب دیکھو وہی رسول کریم سیر جو یا تو ریشم کا جبت بننے پر ناراض ہوتے ہیں یہ فرماتے ہیں کہ فلاں شخص کے ہاتھ میں میں کسری کے کنگن دیکھتا ہوں۔ آخر ایک زمانہ آیا کہ کسری کی حکومت کو مسلمانوں کے مقابلہ میں شکست ہوئی اور کسری کے کنگن مال صلی