خطبات محمود (جلد 13) — Page 498
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء اعلان کر دیا کہ ان کو سیل ہو گئی ہے۔غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت کھانسی تھی اور چونکہ دوائی میں پلایا کرتا تھا اس لئے مجھے آپ کی حالت معلوم ہوتی رہتی تھی۔ایک دن کوئی دوست آئے اور کچھ پھل بطور تحفہ لائے۔حضرت مسیح موعود اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔آپ نے پوچھا کیا پھل ہے۔میں نے عرض کیا کیلا ہے اور سنگترہ یا کوئی اور چیز جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہی۔لیکن وہ نزلہ پیدا کرنے والی ترش چیز تھی۔آپ نے فرمایا کہ لاؤ مجھے کھانے کے لئے دو - میں چونکہ دوائی پلایا کرتا تھا اس لئے میں اپنے آپ کو ڈاکٹری کا ماہر خیال کرتا تھا۔میں نے کہا آپ کو سخت کھانسی ہے اور یہ چیزیں کھانسی میں معتر ہوتی ہیں ، اس لئے آپ نہ کھائیں۔مگر آپ مسکرائے اور فرمایا نہیں میں کھانا چاہتا ہوں۔اگر کوئی اور موقع ہو تا تو میں نہ مانتا مگر چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد تھا اس لئے میں نے پھل پیش کر دیا اور آپ کھانے لگے۔میں دل میں کڑھتا کہ اب آپ کو کھانسی کی زیادہ تکلیف ہو جائے گی۔مگر آپ کھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے۔جب کھا چکے تو فرمایا مجھے ابھی کھانسی کے دور ہونے کے متعلق الہام ہوا تھا۔چونکہ الہام یہ تا تا تھا کہ اب کھانسی جاتی رہی ہے اس لئے اس وقت میرا پر ہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو تا۔اب دیکھو وہی پھل جو عام انسان کے لئے کھانا دنیا ہے اور وہی پھل جس کا نزلہ اور کھانسی کے مریض کے لئے کھانا منع ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ثواب کا موجب بن گیا اور ہمارے لئے ایمان کی ترقی کا باعث ہوا۔غرض یہ ایک عام جہالت ہے جو اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ دین اور دنیا کے کاموں کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلاء ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض الفاظ ہوتے ہیں کہ یہ کام دین کا ہے اور یہ دنیا کا۔اور وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ساری دینی چیزیں ایک وقت میں دنیاوی بن جاتی ہیں اور ساری دنیادی چیزیں ایک وقت میں دینی ہو سکتی ہیں۔حالات کے مطابق ان باتوں میں تغیر ہو تا رہتا ہے۔اور پھر ان کی بھی آگے اقسام ہیں اور ان اقسام کی آگے اقسام ہیں۔اور انہیں کے صحیح طور پر جاننے کا نام عرفان ہے۔یہی چیزیں جن کو عام لوگ نہیں سمجھتے جب ایک انسان ان پر غور کرتا اور سمجھ لیتا ہے تو وہ عارف بن جاتا ہے۔ابھی جب ہم ڈلہوزی سے آرہے تھے مفتی صاحب میرے ساتھ تھے۔کوئی بات انہوں نے نجات کے متعلق کہی۔میں نے کہا میں تو سمجھتا ہوں کہ عرفان کے ساتھ ہی نجات کا مفہوم بھی بدلتا جاتا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر الہی صفات کے مطابق ہم حقیقی نجات کی تفصیلات کو بیان کرنا شروع کریں تو کئی اپنے آدمی بھی