خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 498 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 498

خطبات محمود ۴۹۸ سال ۱۹۳۲ء اعلان کر دیا کہ ان کو مسل ہو گئی ہے۔ غرض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سخت کھانسی تھی اور چونکہ دوائی میں پلایا کرتا تھا اس لئے مجھے آپ کی حالت معلوم ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن میں پلایا کوئی دوست آئے اور کچھ پھل بطور تحفہ لائے۔ حضرت مسیح موعود اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ آپ نے پوچھا کیا پھل ہے۔ میں نے عرض کیا کیلا ہے اور سنگترہ یا کوئی اور چیز جو اس وقت مجھے یاد نہیں رہی۔ لیکن وہ نزلہ پیدا کرنے والی ترش چیز تھی۔ آپ نے فرمایا کہ لاؤ مجھے کھانے کے لئے دو۔ میں چونکہ نکہ دوائی پلایا کرتا تھا اس لئے میں اپنے آپ کو ڈاکٹری کا ماہر خیال کرتا تھا۔ میں نے کہا آپ کو سخت کھانسی ہے اور یہ چیزیں کھانسی میں مصر ہوتی ہیں اس لئے آپ نہ کھائیں۔ مگر آپ مسکرائے اور فرمایا نہیں میں کھانا چاہتا ہوں۔ اگر کوئی اور موقع ہوتا تو میں نہ مانتا مگر چونکہ حضرت مسیح مو موعود علیہ السلام کا ارشاد تھا اس لئے میں نے پھل پیش کر دیا اور آ۔ آپ کھانے لگے۔ میں دل میں کڑھتا کہ اب آپ کو کھانسی کی زیادہ تکلیف ہو جائے گی۔ مگر آپ کھاتے ۔ آپ کھاتے جاتے اور مسکراتے جاتے ۔ جب کھا چکے تو فرمایا مجھے ابھی کھانسی کے دور ہونے کے متعلق الہام ہوا تھا۔ چونکہ الہام یہ بتاتا تھا کہ اب کھانسی جاتی رہی ہے اس لئے اس وقت میرا پر ہیز کرنا اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہوتا۔ اب دیکھو وہی پھل جو عام انسان کے لئے کھانا دنیا ہے اور وہی پھل جس کا نزلہ اور کھانسی کے مریض کے لئے کھانا منع ہے ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ثواب کا موجب بن گیا ہمارے لئے ایمان کی ترقی کا باعث ہوا۔ غرض یہ ایک عام جہالت ہے جو اکثر لوگوں میں پائی جاتی ہے کہ وہ دین اور دنیا کے کاموں کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔ اور مجھے افسوس ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ بھی اس غلط فہمی میں مبتلاء ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محض الفاظ ہوتے ہیں کہ یہ کام دین کا ہے اور یہ دنیا کا۔ اور وہ اس امر کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ساری دینی چیزیں ایک وقت میں دنیاوی بن جاتی ہیں اور ساری دنیاوی چیزیں ایک وقت میں دینی ہو سکتی ہیں۔ حالات کے مطابق ان باتوں میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔ اور پھر ان کی بھی آگے اقسام ہیں اور ان اقسام کی آگے اقسام ہیں۔ اور انہیں کے صحیح طور پر جاننے کا نام عرفان ہے ۔ یہی چیزیں جن کو عام لوگ نہیں سمجھتے جب ایک انسان ان پر غور کرتا اور سمجھ لیتا ہے تو وہ عارف بن جاتا ہے ۔ ابھی جب ہم ڈلہوزی سے آرہے تھے مفتی صاحب میرے ساتھ تھے ۔ کوئی بات انہوں نے نجات کے متعلق کہی۔ میں نے کہا میں تو سمجھتا ہوں کہ عرفان کے ساتھ ہی نجات کا مفہوم بھی بدلتا جاتا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر الی صفات کے مطابق ہم حقیقی نجات کی تفصیلات کو بیان کرنا شروع کریں تو کئی اپنے آدمی بھی اور