خطبات محمود (جلد 13) — Page 496
خطبات محمود ۴۹۶ سال ۱۹۳۲ء چونکہ یہ کبر اور خیلاء کی علامت تھی اس لئے رسول کریم میں ہم نے اس سے روک دیا ۔ حضرت لئے میں ہم نے خلیفہ اول فرماتے میرے اس عزیز نے مسواک کی اور اس رئیس کے مجنوں پر مار کر کہا یہ حصہ پر مار تمہارا دوزخ میں جائے گا۔ اس شخص کے دل میں نہ اسلام تھا نہ اسلام کی محبت باقی تھی۔ صرف ایک نام اسے حاصل تھا اور امید کی جا سکتی تھی کہ کسی وقت اس نام کی وجہ سے ہی اسلام کے متعلق ورثہ کی محبت اس پر غالب آجائے اور وہ حقیقی مسلمان بن سکے ۔ مگر جب ایک بھری مجلس میں اس کے ساتھ ایسا سلوک ہوا تو اس نے کہہ دیا کس بے وقوف نے تمہیں بتایا ہے کہ میں مسلمان ہوں۔ یہ نتیجہ تھا اس تقشر کا اس ظاہری چیز کی طرف مائل ہو جانے کا جسے مسواک مارنے والے نے اسلام سمجھ رکھا تھا ۔ بظاہر اس کا یہ دینی فعل تھا مگر یہ دین کا نہ رہا بلکہ دنیا کا بن گیا۔ کیونکہ قشر دنیا سے تعلق رکھتا ہے دین سے تعلق رکھنے والی چیز مغز ہے ۔ اسی طرح اگر کوئی انسان نماز میں ظاہری حرکات کی حد سے زیادہ پابندی کرتا ہے اور خلوص اور محبت اللہی کو نظر انداز کر کے ہر وقت اس فکر میں رہتا ہے کہ اس کی کمر اتنی جھکتنی چاہئے۔ اس کے ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں ذرا بھی ادھر اُدھر نہ ہوں اور وہ اسی ادھیڑ بن میں اپنا وقت گزار دیتا ہے تو اس کی نماز دینی کام نہ رہا بلکہ دنیا کا کام بن گیا۔ ایسا شخص جب نماز پڑھ رہا ہو تو بظاہر دینی فعل کر رہا ہو گا مگر دراصل وہ اپنا تمام وقت دنیا کے کام میں صرف کر رہا ہو گا۔ اس کے مقابلہ میں ایک اور شخص جو بظاہر دنیا کا کام کر رہا ہو لیکن اس کے مد نظر خدا تعالیٰ کی رضاء ہو ، اس کا کام دین میں شمار ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام بارہا فرمایا کرتے تھے کہ صوفیاء کا مشہور مقولہ ہے مومن کی یہ حالت ہونی چاہئے کہ ” دست در کار و دل با یار - ایسا انسان بظاہر تجارت کر رہا ہوتا ہے یا صنعت و حرفت کا کام کر رہا ہوتا ہے مگر اس کا سودا کرنا بھی خدا کی محبت کو ابھارنے والا ہوتا ہے۔ اور اس کا تجارت کرنا بھی اللہ تعالیٰ کی رضاء کو کھینچتا ہے ۔ سے ا سید عبد القادر صاحب جیلانی کے متعلق لکھا ہے وہ ہمیشہ نہایت فاخرہ لباس پہنا کرتے اور اچھے اچھا کھانا کھایا کرتے ۔ ان پر کسی نے اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا میں تو اس وقت تک تک کپڑا نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا اے عبد القادر ! تجھے میری ہی ذات کی قسم فلاں قسم کا کپڑا پھین۔ اور میں نہیں کھاتا جب تک خدا تعالیٰ مجھے نہیں کہتا اے عبد القادر! تجھے میری ہی ذات کی قسم فلاں قسم کا کھانا کھا ہے ۔ اب وہی لباس اور وہی کھانا جو ایک دو سرے انسان کے لئے دنیا ہے سید عبد القادر صاحب جیلانی کے لئے دین بن گیا۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ کسی کام کے لئے کہے کہ ایسا