خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 459

خطبات محمود ۴۵۹ سال ۱۹۳۲ء ہونے چاہئیں بحیثیت جماعت اللہ تعالٰی کے فضل سے ہم دنیوی شعبوں میں بھی ترقی کر رہے ہیں اور سوائے محکمہ پولیس کے کہ اس میں رشوت ستانی ہوتی ہے اور اس میں ہمارے آدمیوں کا گزارہ کرنا مشکل ہے ہماری جماعت قریبا ہر محکمہ میں اپنی تعداد سے زیادہ حصہ لے رہی ہے اور جس رنگ میں ہماری جماعت مختلف محکمہ جات میں ترقی کر رہی ہے اسے دیکھتے ہوئے امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصہ میں ہماری جماعت مختلف شعبوں میں بہت اچھا غلبہ حاصل کرلے گی یہ غلبہ مجھے افراد میں نظر نہیں آتا اور یہ تربیت کا نقص ہے اگر صحیح رنگ میں لڑکوں کے دماغوں کی تربیت کی جائے تو ان کے لئے دماغی ترقی کرنا اور مشکل سے مشکل مسائل کو سلجھانا کچھ بھی مشکل نہیں لیکن افسوس ہے کہ لڑکوں کی تربیت کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے اسی طرح میں اپنے سکولوں کے نتائج کو دیکھتا ہوں کہ وہ نہایت ہی افسوسناک ہوتے ہیں بلکہ اس سال تو جو نتیجہ نکلا اس کے لحاظ سے ہمارے سکول نے نہایت شرمناک نمونہ دکھایا ہے طالب علم شکایت کرتے رہتے ہیں کہ استاد محنت نہیں کراتے اور جس قدر وقت دینا چاہئے وہ وقت صحیح طور پر تعلیم میں استعمال نہیں کرتے ان کی نسبت باہر کے سکولوں کے استاد بہت زیادہ محنت کراتے اور مقررہ اوقات سے زیادہ وقت دیتے ہیں چنانچہ ابھی پچھلے دنوں میرا ایک عزیز بچہ آیا ہوا تھا میں نے اس سے دریافت کیا کہ تمہیں موسمی چھٹیاں کتنی ہوتی ہیں وہ کہنے لگا چونکہ اس دفعہ مجھے دسویں جماعت کا امتحان دینا ہے اس لئے اس سال دس بارہ سے زیادہ چھٹیاں نہیں ہونگی کیونکہ چھٹیوں کے ایام میں بھی استاد محنت کراتے ہیں غرض طالب علم تو یہ شکایت کرتے ہیں کہ استاد اتنا وقت نہیں دیتے جتنا انہیں دینا چاہئے اور استاد شکایت کرتے ہیں کہ ان کے اوقات اتنے مصروف ہیں کہ انہیں پڑھائی کے لئے مزید وقت نہیں ملتا اور یہ کہ ہم تو لڑکوں سے کہتے ہیں کہ وہ اگر پڑھیں مگر وہ پڑھتے نہیں یہ اتنے متضاد بیان ہیں کہ ایک وقت میں قطعا صحیح سمجھے نہیں جاسکتے یہ کہنا کہ استادوں کے وقت بہت لگے ہوئے ہیں اور انہیں زیادہ وقت دینا مشکل ہے اسے تو میں بالکل باطل اور لغو سمجھتا ہوں جتنا وقت وہ اس وقت تعلیم پر صرف کر رہے ہیں میرے نزدیک اس سے تین چوتھائی وقت بھی اگر وہ صحیح طور پر استعمال کریں تو اس سے نہایت اعلیٰ نتائج نکل سکتے ہیں اور لڑکوں کی تعلیم بھی مکمل ہو سکتی ہے مگر شرط یہی ہے کہ وہ وقت کا صحیح استعمال کریں اسی طرح یہ خیال کہ لڑکوں کے درس میں شریک ہونے کی وجہ سے ان کی پڑھائی کا حرج ہوتا ہے بالکل بیہودہ ہے جس درس میں وہ شامل ہی نہیں ہوتے اس کا نقصان انہیں کیو نکر پہنچ سکتا ہے۔قادیان کے 3