خطبات محمود (جلد 13) — Page 458
خطبات محمود ۴۵۸ سال ۹۳۲ بدی میں موازنہ کرنا آتا ہے اور نہ ان کی تربیت ایسی اعلیٰ پیمانے پر کی جاتی ہے جس طرح کرنی چاہئے۔ان پر جب دوسرے لوگ اعتراض کرتے ہیں تب پتہ لگتا ہے کہ انکی تربیت کیسی ناقص ہو رہی ہے۔ایک زمانہ تھا کہ لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام پر اعتراض کرتے کہ یہ کیسے نی ہیں جبکہ یہ بادام روغن کھاتے ہیں۔میرے سامنے بھی حضوں نے کہا کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی زندگی ویسی نظر نہیں آتی جیسی انبیاء کی ہوتی ہے۔حالانکہ وہ نادان یہ نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر شخص سے علیحدہ سلوک ہوتا ہے۔سید عبد القادر صاحب جیلانی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ نہایت ہی قیمتی لباس پہنا کرتے تھے۔بعض دفعہ اڑھائی اڑھائی ہزار روپے کا ان کا ایک جوڑا ہو تا تھا۔لوگ اعتراض کرتے تو آپ فرماتے میں تو کوئی لباس نہیں پہنتا جب تک خدا مجھے نہیں کہتا اے عبد القادر ! تجھے میری ذات کی قسم تو فلاں لباس پہن ہے۔اب اگر خدا کے حکم کے ماتحت ایک شخص ہزاروں روپے کا بھی لباس پہنتا ہے اور دوسرا اعتراض کرتا ہے تو معترض بیوقوف اور فلسفہ الہیات سے ناواقف ہے کوئی بورڈر نہیں کہتا کہ ہمارا سپرنٹنڈنٹ جس وقت چاہے بورڈنگ سے چلا جاتا ہے اور جب چاہے آجاتا ہے لیکن ہمیں کہتا ہے کہ باہر جانے پر اجازت لو آپ تو کبھی اجازت لیتا نہیں اور ہمیں اجازت لینے کو کہتا ہے حالانکہ مساوات چاہئے۔ایک طالب علم کبھی یہ نہیں کہتا کہ ہمارا استاد آکر خود تو کرسی پر ڈٹ جاتا ہے لیکن ہمیں بنچ پر بیٹھنا پڑتا ہے اور ہمیں کہتا ہے سبق یاد کرو۔ہر شخص کا منصب الگ الگ ہوتا ہے۔اور اس منصب کے مطابق ہر شخص کے کام مختلف ہوتے ہیں کسی کو حکمتوں پر خدا کسی رنگ میں آزماتا ہے اور کسی کو کسی رنگ میں - نادان ہے وہ جو اللہ تعالی کی اعتراض کرتا ہے اور اپنی بیوقوفی کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتا کہ میں کہاں اور وہ کہاں۔کوئی دو آدمی ایک ہی جیسی حالت کے نہیں ہوتے ایک شخص تو میروں دودھ پی جاتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا لیکن ایک میں ہوں کہ اگر دو تولہ دودھ بھی پی لوں تو بخار چڑھ جاتا ہے اب اگر میں کہوں کہ آدمی تو ہم دونوں ہیں پھر وجہ کیا کہ وہ کئی سیر دودھ پی جاتا ہے اور میں دو تولہ بھی نہیں پی سکتا تو یہ صحیح نہیں ہو گا بے شک ہم آدمی دونوں ہیں لیکن طاقتوں میں فرق ہے اسی طرح لوگ اس امتیاز کو نہیں سمجھتے کہ اللہ تعالٰی بعضوں کو کھلاتا ہے اور بعض کو بھوکا رکھتا ہے پہلے ہمارے سکولوں میں سے جو طالب علم نکلتے تھے وہ ایسے سوالوں کا بخوبی جواب دے لیا کرتے تھے لیکن اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمارے سکولوں میں سے جو طالب علم نکل رہے ہیں ان کے دماغ ایسے اعلیٰ نہیں جیسے