خطبات محمود (جلد 13) — Page 457
خطبات محمود ۴۵۷ سال ۱۹۳۲ء زندہ مذہب ثابت کرے اور بھولی بھٹکی دنیا کو ہدایت کی طرف لائے۔ ابھی تک اس میں بہت ہیں جو لا اله الا اللہ کے اس مفہوم کو مد نظر نہیں رکھتے ۔ اسی لئے ہماری جماعت کے کاموں میں مجھے وہ برکت نظر نہیں آتی جو آئی چاہئے۔ اس میں شبہ نہیں کہ بحیثیت جماعت ہمارے کاموں میں برکت ہوتی ہے اور اللہ تعالی کی تائید اور نصرت ہمارے شامل حال ہے لیکن انفرادی کاموں میں ہمیں اس نصرت الہی کا مشاہدہ نہیں ہوتا۔ اور نہ انفرادی کاموں میں وہ برکت نظر آتی ہے جو اللہ تعالٰی کے مقبولوں کے کاموں میں نظر آنی چاہئے۔ حالانکہ اس خیال کے ماتحت کہ ہم اللہ تعالی کے جلال کے لئے دنیا سے تعلق رکھتے ہیں ہمیں اپنے دنیاوی کاموں میں بھی دوسروں پر نمایاں فوقیت ہونی چاہئے۔ اور جس کام میں بھی ہم اپنا ہاتھ ڈالیں، ہمیں اس میں دوسروں پر غلبہ حاصل ہونا چاہئے۔ کیونکہ لا الہ الا اللہ کا مقصود دنیا کو یہی بتاتا ہے کہ ساری دنیا کی گردنیں اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہیں۔ اور جب ساری دنیا کی گردنیں اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں تو جو اللہ تعالی سے تعلق کے دعویدار ہوں ان کے ہاتھ میں بھی ساری دنیا کی گردنیں ہونی چاہئیں۔ لیکن اگر بجائے دوسروں کی گردنیں ہمارے ہاتھ میں ہونے کے ہماری گردنیں ان کے ہاتھ میں ہوں تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہم لا اله الا اللہ کو مانتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ کی یہ شان ہے کہ وہ کبھی اپنے پیاروں پر دوسروں کو غلبہ نہیں دیتا۔ کیا کبھی تم نے دیکھا کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کے پیچھے کتے ڈال دے۔ یا کسی ماں کو تم نے دیکھا کہ وہ شیر کے آگے اپنا بچہ پھینک دے۔ جب ایک باپ اپنے بیٹے کے پیچھے کتے نہیں ڈالتا اور نہ ماں اپنے بچے کو شیر کے آگے ڈالتی ہے تو کس طرح ممکن ہے کہ خدا جو ماں باپ سے بہت زیادہ شفقت کرنے والا ہے وہ اپنے بندوں پر دوسروں کو مسلط کر دے اور انکی گردنیں اغیار کے ہاتھوں میں دیدے۔ اگر باوجود لا اله الا اللہ کہنے کے کسی کی یہ حالت ہو تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ بظاہر وہ سمجھتا ہے کہ وہ لا الہ الا اللہ کہتا ہے لیکن دراصل اس مقصد کے مطابق اپنے آپ کو بناتا نہیں جو لا اله الا اللہ کا ہے اور اسی لئے ان فیوض اور برکات سے محروم رہتا ہے جو اس سے وابستہ ہیں۔ بیسیوں کام ہیں جن میں ہماری جماعت سستی اور غفلت سے کام لے رہی ہے۔ لیکن وہ امر جس نے اس وقت مجھے یہ خطبہ پڑھنے پر مجبور کیا ہے ہمارے سکولوں کی حالت ہے۔ مجھے تعجب اور افسوس آتا ہے کہ اس وقت ہمارا ہائی سکول ایسے طالب علم پیدا نہیں کر رہا جو سلسلہ اور اسلام کی روح لے کر کھڑے ہونے والے ہوں۔ اور جو کسی ٹھوس فلسفہ پر قائم ہوں۔ بالکل پاگلوں کی سی باتیں ہوتی ہیں نہ انہیں نیکی اور