خطبات محمود (جلد 13) — Page 456
خطبات محمود ۴۵۶ سال ۱۹۳۲ء طرح اگر تجارت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر فلاں چیز کی تجارت نہ کی تو اس دفعہ سخت نقصان پہنچے گا تو دراصل اس چیز کو اپنا خدا سمجھتے ہیں۔ اور اگر ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ تجارت میں فائدہ ہمیں اپنی عقل اور قابلیت سے ہوا تو ہم اپنی عقل کو خدا قرار دیتے ہیں۔ ایک طالب علم اگر یہ سمجھتا ہے کہ مجھے اگر استاد نے نہ پڑھایا تو مجھے نقصان ہو گا تو وہ اپنے استاد کو خدا قرار دیتا ہے ۔ اور اگر استاد کہتا ہے کہ میں ہی علم سکھاتا ہوں اور اگر نہ سکھاؤں تو لڑ کے جاہل ہی رہیں تو وہ اپنے آپ کو ان کا خدا قرار دیتا ہے۔ غرض دنیا میں ہمارے جس قدر معاملات ہیں یا تو ان میں تعبد کا رنگ پایا جاتا ہے یا حکومت کا۔ کومت کا۔ یا ہم دوسرے کو اپنا خدا بنا رہے ہوتے ہیں یا اپنے آپ کو دوسرے کا خدا قرار دے رہے ہوتے ہیں۔ پس ہمارا ہر کام ہمارا ہر فعل اور ہماری ہر حرکت کا حرکت لا اله الا الله کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔ اور ان دونوں صورتوں میں یا تو ہم لا اله الا الله کا از اللہ کا اقرار کر رہے ہوتے ہیں یا ہم لا اله الا اللہ کا انکار کر رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم لا اله الا اللہ کہتے ہیں تو شرعی نقطہ نگاہ سے اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ دنیا میں جو بھی معاملات پیش آئیں گے ان میں نہ ہم اپنے آپ کو کسی کا خدا قرار دیں گے اور نہ کسی کو اپنا خدا سمجھیں گے ۔ اگر ہم افسر ہیں تو یہ خیال رکھیں گے کہ ہم افسر نہیں بلکہ حقیقی افسر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور اگر ہم ما تحت ہیں تو خیال رکھیں گے کہ ہمارا افسر کوئی انسان نہیں بلکہ خدا ہی افسر ہے۔ اس خیال کے ماتحت جب ہم کسی کام میں ہاتھ ڈالیں گے تو اس میں بھلائی ہی ہی بھلائی بھلائی ہوگی۔ ہوگی۔ یہیں لا اله الا اللہ کا خلاصہ ہے۔ یہی خلاصہ سورۃ فاتحہ کا کا۔ ہے اور یہی قرآن مجید کا خلاصہ ہے۔ قرآن اسی لئے نازل ہوا ہے کہ تا وہ بتائے کہ بے شک دنیا میں کام کرو، مگر اللہ تعالٰی کی الوہیت کو نقصان نہ پہنچاؤ - آخر اللہ تعالی نے دنیا کو کیوں بنایا اس لئے کہ اس کی الوہیت کا ظہور ہو۔ لیکن اگر ہم اپنے کاموں میں اپنے اسباب کو خدا بنا لیتے ہیں۔ بیوی اور بچوں کو خدا بنا لیتے ہیں۔ افسروں کو خدا بنا لیتے ہیں۔ اور اسباب کو الوہیت پر غالب کر دیتے ہیں تو ہم بجائے خدا کے ظہور کو قائم کرنے کے اس کے ظہور کو مٹانے والے ہوتے ہیں۔ اور ایسی صورت میں ہم قطعا لا إِلهَ إِلَّا الله کہنے والے نہیں ہوتے ۔ پس مومن کو چاہئے کہ وہ اپنے کاموں میں لا اله الا اللہ کو مقصود بنائے اور کوشش کرے کہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا ظہور دنیا پر ہو۔ اگر ہم اس مفہوم کو سمجھ لیں اور سچے دل سے لا اله الا اللہ پر عمل کریں تو میں یقین رکھتا ہوں کہ ہمارے تمام کاموں میں برکت پیدا ہو جائے۔ مجھے نہایت ہی تعجب آتا ہے کہ ہماری جماعت جو اس لئے دنیا میں قائم کی گئی ہے کہ وہ اسلام کو