خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 454 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 454

خطبات محمود لدولد سال ۱۹۳۲ء دو ہیں ان میں سے ایک حصہ تو قرآن مجید میں آیا ہے اور ایک حصہ قرآن مجید سے باہر ہے۔ سورۃ فاتحہ کا خلاصہ جو قرآن مجید کے اندر آیا ہے وہ بشیم اللہ ہے ۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جو سورۃ فاتحہ کا خلاصہ ہے لیکن یہ سورۃ فاتحہ کی کنجی بھی ہے۔ اور یہ بھی ایسا خلاصہ ہے جس سے بہتر خلاصہ نا ممکن ہے۔ لیکن ساتھ ہی ایسی تفصیلات بھی اپنے اندر رکھتا ہے جس کی نظیر نا ممکن ہے۔ ایک بزرگ لکھتے ہیں میں ایک دفعہ بسم اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ کی تفسیر لکھنے بیٹھا لیکن میں ابھی بے پر ہی غور کر رہا تھا کہ مجھ پر اس قدر معارف کھلے کہ میں نے یقین کر لیا کہ اس کی تفسیر لکھنا نا ممکن ہے۔ پھر اس سورۃ فاتحہ کا دوسرا خلاصہ جو قرآن مجید کے باہر آیا ہے اور جو بطور گر ہمیں سکھایا گیا ہے۔ وہ لا اله الا الله ہے ۔ لَا إِلَهَ إِلَّا الله خلاصہ ہے سورۃ فاتحہ کا اور خلاصہ ہے قرآن مجید کا۔ اس کے اندر ساری تفصیل ہے۔ اور اس کے اندر سارا اجمال بھی ہے یہی کلمہ ہے جو ہر چیز کو انتصار کے ساتھ اپنے اندر لئے ہوئے ہے اور ہر چیز کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم مسلم نے فرمایا مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ۚ جو شخص لَا إِلَهَ الا اللہ کے گا جنت میں داخل ہو جائے گا ۔ اب اگر لا إِلَهَ إِلَّا الله اللہ اپنی ذات میں ایسا فقرہ ہوتا جس کا پڑھ لینا انسان جنت میں داخل کر سکتا تو پھر سورۃ فاتحہ کی کیا ضرورت تھی۔ اور اگر ہم صرف سورۃ فاتحہ پڑھنے سے جنت میں داخل ہو سکتے تو پھر باقی قرآن کی کچھ ضرورت نہیں رہتی۔ پس کا اله الا اللہ کی اپنی ذات میں کوئی حیثیت ماننے اور اسے قرآن مجید یا سورۃ فاتحہ سے الگ خیال کرتے ہوئے انسان کا جنت میں داخل ہو سکنا سورۃ فاتحہ کو بے کار قرار دے دیتا ہے۔ اور سورۃ فاتحہ کو بے فائدہ ماننے سے باقی قرآن کو بے فائدہ ماننا پڑتا ہے۔ دراصل رسول کریم مسلم نے جب یہ فرمایا مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ کہ جو شخص لا إِلَهَ إِلَّا اللہ کے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور پھر کہا کہ قرآن مجید سے ہی انسان کی نجات وابستہ ہے۔ تو آپ نے یہ بتایا کہ کلمہ کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ قرآن اور سورۃ فاتحہ کا ایک خلاصہ ہے۔ اور یہ ایسا مکمل خلاصہ ہے کہ جو اس پر عمل کرے گا۔ وہ قرآن پر عمل کرے گا۔ اور اس کے نتیجہ میں جنت میں داخل ہو جائے گا۔ اگر مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ كي يه ۔ یہ معنے نہ لئے جائیں کہ یہ کلمہ خلاصہ ہے تمام قرآن مجید کا تو قرآن باطل ہو جاتا ہے۔ اور اگر قرآن مجید کو ضروری مانیں تو اس حدیث کو باطل مانا پڑتا ہے۔ تطبیق کی صورت یہی ہے کہ اسے قرآن مجید کا خلاصہ قرار دیا جائے اور در اصل رسول کریم میں ہم نے جو کچھ فرمایا اس کا یہی مطلب ہے کہ قرآن مجید کے تمام مطالب