خطبات محمود (جلد 13) — Page 449
خطبات محمود ۲۲۹ سال ۱۹۳۲ء اتنی آمدنی ہوتی تھی جتنی کہ ساری جماعت مل کر بھی پوری نہ کیا کرتی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ اسے پورا کرنے بلکہ اس سے زیادہ جمع کرنے کی توفیق دی۔ اور نہ صرف یہ کہ پچھلا قرضہ اتر گیا بلکہ ہم اس سال کو کچھ نہ کچھ سرمایہ سے شروع کر رہے ہیں۔ ایک دنیا دار کی نظر میں تیرہ چودہ سو ایک حقیر رقم ہے مگر مومن جانتا ہے کہ اللہ تعالی کے خزانوں میں یہ بڑی چیز ہے رسول کریم سی نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص ثواب کی نیت سے اپنی بیوی کے مونہہ میں ایک لقمہ بھی ڈالتا ہے تو اس کے لئے ثواب اور نجات کا موجب ہو جاتا ہے ۔ ایک بزرگ کے متعلق لکھا ہے کہ انہوں نے ایک یہودی کو دیکھا کہ جانوروں کے آگے دانے ڈال رہا تھا انہوں نے خیال کیا کہ جب اس کے اندر ایمان نہیں تو اس نیکی کا اسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے انہوں نے اس سے سوال کیا لیکن وہ یہودی جواب میں خاموش رہا کچھ عرصہ بعد وہ حج کے لئے گئے تو دیکھا کہ وہی یہودی احرام باندھے حج کر رہا ہے انہوں نے حیران ہو کر اس سے دریافت کیا کہ تو کہاں ؟ اس نے جواب دیا کہ وہی دانے جن کو آپ حقیر سمجھتے تھے مجھے یہاں لے آ۔ آئے ہیں تو اللہ تعالی کے حضور پیسوں کی قیمت نہیں بلکہ اخلاص کی قدر ہے۔ اللہ تعالی یہ نہیں دیکھا کہ کتنی رقم جمع کی گئی ہے بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ کس اخلاص سے جمع کی گئی ہے پس اگر قرضہ ادا کرنے کے بعد ۱۳ پیسے یا تیرہ پائی یا تیرہ کو ڑیاں بھی بچتیں تب بھی اس کے یہ معنی ہوتے کہ جماعت نے اس اخلاص سے کام کیا ہے کہ کچھ نہ کچھ پس انداز کر لیا اور دنیا کی نظر میں یہ زیادتی خواہ کوئی حقیقت نہ رکھتی ہو لیکن اللہ تعالٰی اس کو مزید زیادتی کا موجب بنائے گا۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ خدا جس نے ایسے وقت میں جبکہ بڑی بڑی حکومتیں دیوالیہ ہو رہی ہیں۔ ہماری جماعت کو توفیق دی ہے کہ اپنے قرضے ادا کرے وہ اس اخلاص کو ضائع نہیں کرے گا وہ ان کی ہمتوں میں برکت دے گا حوصلوں کو بلند کرے گا اور جن لوگوں نے تنگی کے ایام میں اپنے اوپر بوجھ ڈال کر وہ قرضے اتارے ہیں جو خدا تعالیٰ کے دین کی خاطر اٹھائے گئے تھے اللہ تعالیٰ ان کو ضرور اس کا اجر دیگا۔ بعض بدلے جلدی مل جاتے ہیں اور بعض دیر۔ اور بعض دیر سے ملتے ہیں پھر بعض اس دنیا میں ملتے ہیں اور بعض انگلی دنیا میں۔ لیکن اللہ تعالی کسی کا قرضہ اپنے اوپر ہرگز نہیں رکھتا یقین دہ اس کا بدلہ دیتا ہے خواہ یہاں دے خواہ اگلے جہان میں خواہ اس شخص کو ملے خواہ اس کی اولاد کو۔ کیونکہ اگر خدا بدلہ نہ دے تو وہ ممنون احسان سمجھا جائے گا مگروہ کسی کا احسان اپنے اوپر نہیں رکھتا وہ شکور ہے جب کوئی شخص نیک کام کرتا ہے تو وہ اس کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے۔