خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 445

خطبات محمود ۴۴۵ سال ۱۹۳۲ء کہنے لگا ارے میاں کیا گودنے لگے ہو۔گودنے والے نے کہا شیر کی دم بنانے لگا ہوں کہنے لگا اچھا تو اگر دم کٹ جائے تو شیر رہتا ہے یا نہیں اس نے کہا رہتا کیوں نہیں۔کہنے لگا اچھا دُم چھوڑو اور آگے چلو پھر جو اس نے سوئی ماری اور اسے درد ہوا تو کہنے لگا اب کیا گودنے لگے ہو۔اس نے کہا دایاں کان۔کہنے لگا اچھا اگر دایاں کان نہ ہو تو شیر رہتا ہے یا نہیں۔اسے بتایا گیا رہتا کیوں نہیں۔اس نے کہا اسے بھی چھوڑو اور آگے چلو۔پھر وہ بایاں کان گودنے لگا۔پھر اس نے روک دیا۔اسی طرح وہ ایک ایک عضو پر منع کرتا چلا گیا یہاں تک کہ نائی نے اپنی سوئی رکھ دی اور کہنے لگا ایک دو چیزوں کے نہ ہونے سے تو شیر رہ سکتا ہے لیکن یہاں تو ساری کی ساری ہی چھوڑ دی گئیں۔پس ایسی بھی کئی چیزیں ہوتی ہیں جو اکیلی نتیجہ پیدا نہیں کرتیں بلکہ مجموعی لحاظ سے اثر کرتی ہیں۔وہی بینگن ہوتا ہے جسے ایک شخص کھاتا ہے مگر اسے کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔لیکن دوسرے کو اسکے کھانے سے بواسیر ہو جاتی ہے۔خود بینگن میں یہ اثر نہیں تھا کہ اسے جو کھائے اسے بواسیر ہو جائے لیکن چونکہ کھانے والے نے اسی دن کوئی اور بھی گرم چیز کھالی ہوگی یا ایک دن پہلے کوئی اور گرم چیز کھائی ہوگی یا متواتر دو تین ہفتہ سے کوئی نہ کوئی گرم چیز کھا تا آیا ہو گا اس لئے ایک دن ان سب نے مل کر اسے بواسیر کا عارضہ لاحق کر دیا۔اسی طرح شلغم کدو گوشت اور مرچ وغیرہ زہریں نہیں لیکن ایک لمبے عرصہ تک ان میں سے بعض چیزیں بعض سے مل کر ایسا نتیجہ پیدا کرتی ہیں کہ کھانے والے بیمار ہو جاتے ہیں۔انہی چیزوں کا کھانے والا ایک شخص تو پہلوان ہو جاتا ہے لیکن یہی گوشت ، روٹی وال، شلغم اور کدو کھانے والا دوسرا شخص مسلول و مدقوق ہو جاتا ہے۔چیزیں یہی ہوں گی جن کے کھانے والے تندرست ہوں گے۔لیکن انہیں کی تھوڑی تھوڑی بے احتیاطی ایک شخص کو مسلول و مدقوق بنا دیتی ہے اور انہی کا صحیح استعمال دوسرے کو پہلوان بنا دیتا ہے۔پس ایسی بھی چیزیں ہوتی ہیں جنہیں الگ الگ نہیں دیکھا جاتا بلکہ مشترکہ طور پر ان کے نتیجہ پر نگاہ ڈالی جاتی ہے۔اسی طرح مسائل دینیہ کا حال ہے۔ان میں سے بھی معمولی نظر آنے والے احکام ایسے ہوتے ہیں کہ دوسری تعلیموں کے ساتھ مل کر نہایت شاندار نتائج پیدا کر دیتے ہیں اور انسان کو اس اطاعت کے بدلہ میں اللہ تعالی کی رضاء حاصل ہو جاتی ہے۔اور اصل کامیابی تو اللہ تعالٰی کی اطاعت میں ہی ہے۔جو شخص اس کی اطاعت میں محو رہتا ہے وہ آخر کامیاب ہو جاتا ہے۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں اپنی اطاعت کی کچی توفیق عطا فرمائے نہ صرف اطاعت کی توفیق بلکہ اپنے احکام کی حکمتیں سمجھنے کی اہمیت بھی عطا فرمائے تا اس کے فضل سے