خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 440

خطبات محمود ۴۴۰ سال ۱۹۳۲ء حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں ہر چیز کی قیمت روپوں اور پیسوں میں نہیں لگائی جاتی۔کیونکہ بعض چیزیں گو نہایت اہم ہوتی ہیں مگر ان کی قیمت مخفی ہوتی ہے۔بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ایک قوم کی تباہی کا موجب ہو جاتی ہیں اور بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ایک قوم کی ترقی کا موجب بن جاتی ہیں۔میں نے ایک کتاب میں پڑھا فنونِ جنگ کا ایک ماہر لکھتا ہے کہ نپولین اور انگریزوں کے درمیان جو بحری جنگ ہوئی اور جس میں انگریزوں کے مشہور امیر البحر نیلسن کو فتح ہوئی اس میں انگریزوں کی کامیابی اور نپولین کی ناکامی کی کنجی انگریزی اور فرانسیسی زبان کے الفاظ تھے۔فرانسیسی زبان میں حروف زائد کر دیئے جاتے ہیں۔یعنی حروف لکھے ہوئے بہت ہوتے ہیں لیکن پڑھنے میں تھوڑے آتے ہیں اور انگریزی زبان میں اس قدر زائد نہیں ہوتے۔پرانے زمانہ میں دستور تھا کہ شیشوں کے ذریعے عکس ڈال کر بتاتے کہ اب جہاز دائیں طرف لے جاؤ یا بائیں طرف۔مثلا اگر یہ حکم دینا ہو تا کہ دائیں طرف لے جاؤ تو وہ شیشے سے ایک عکس ڈالتے جس کے معنی دال کے ہوتے۔پھر ایک عکس ڈالتے جو الف کا مفہوم رکھتا۔پھر ایک عکس ڈالتے جو حمزہ پر دلالت کرتا۔اسی طرح عکس کے ذریعے حروف بتا کر الفاظ پورے کرتے۔انگریزوں اور فرانسیسیوں کی اس لڑائی میں فرانسیسی جو عکس ڈالتے چونکہ ان کے حروف اپنے ساتھ زوائد رکھتے تھے اس لئے جو حکم انگریز افسر آدھ منٹ میں پہنچا دیتا وہ فرانسیسی افسر پونے منٹ میں پہنچاتا۔بظاہر۔ایک نہایت ہی معمولی فرق تھا لیکن جنگ میں فتح یا شکست کا انحصار اس چند سیکنڈ کی کمی یا زیادتی کے ساتھ وابستہ تھا۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریزوں کو کامیابی ہو گئی اور فرانسیسی شکست کھا گئے۔ہم دیکھتے ہیں قرآن مجید میں بھی اس کی مثال موجود ہے اور احادیث میں بھی۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ہمارے رسول کو راعنا ہے نہ کہو اگر اس طرح کہو گے تو تمہارے ایمان ضائع ہو جائیں گے۔اب راعنا کے بظاہر یہی معنے ہیں کہ ہمار الحاظ کیجئے اور اس میں کوئی بری بات دکھائی نہیں دیتی۔مگر چونکہ کا عِنا کہنے سے ایک خطرناک نتیجہ نکلنے کا احتمال ہے اس لئے اللہ تعالٰی نے یہ لفظ کہنے سے روک دیا۔در اصل راع کا لفظ باب مُفاعَلَہ سے ہے۔اور اس باب کی خاصیت ہے کہ اس میں جوابی طور پر ایک بات کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔گور اعضا کا عام محاورہ میں یہی مفہوم ہے کہ ہمار الحاظ کر لیکن باب مفاصلہ کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ تم ہمار الحاظ کرو ہم تمہار الحاظ کریں گے۔اگر چہ عام محاورے میں اس کے یہ معنے جاتے رہے ہیں لیکن چونکہ لفظ کی بناوٹ ایسی ہے جس میں سودا پایا جاتا ہے اور مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اے رسول تو ہمارے