خطبات محمود (جلد 13) — Page 439
خطبات محمود 6لد سال ۱۹۳۲ء آجائے گی بلکہ اسے تو پتہ بھی نہ لگے گا۔ اس خیال کے ماتحت ہر ایک آیا اور دو دو چار چار اینٹیں اٹھا کر لے گیا۔ صبح جب مالک مکان نے دیکھا تو میدان اینٹوں سے خالی پایا۔ ان میں سے ہر شخص نے خیال کیا کہ میں ہی اینٹیں لوں گا۔ میرے سوا کوئی اور نہیں لے گا۔ انسان کی بھی عجیب حالت ہے۔ جب وہ بد ظنی کرنے لگتا ہے تو ہر رنے لگتا ہے تو ہر شخص پر کرنے لگ جاتا ہے۔ اور جب حسن ظنی پر آتا ہے تو اس کے دائرہ کو بے حد وسیع کر دیتا ہے۔ اینٹیں اٹھانے والوں نے بھی حسن ظنی ہی کی۔ اور ہر ایک نے سمجھا کہ میرے سوا اور کون چوری کرے گا۔ لیکن جب ہر ایک شخص نے میں خیال کیا اور اس حسن ظنی کے ماتحت سب نے اینٹیں اٹھا لیں تو نتیجہ یہ نکلا کہ ایک اینٹ بھی نہ رہی۔ اسی طرح مشہور ہے پٹھانوں میں ایک سید جا پہنچا۔ اس سے ایک شخص کی دشمنی تھی کیونکہ اس نے کسی وقت اس کی داڑھی نوچی تھی۔ جب سید پٹھانوں کی مجلس میں وعظ کرنے کے لئے کھڑا ہوا تو اس شخص نے نہایت مودبانہ طور پر کھڑے ہو کر کہا۔ حضو را آپ بہت بڑے بزرگ ہیں اور آپ کی ہر چیز بابرکت ہے اگر مجھے اپنی داڑھی کا ایک بال عنایت ہو جائے تو بہت احسان ہو ۔ یہ کہہ کر بغیر جواب کا انتظار کئے خود ہی آگے بڑھا اور سید صاحب کی داڑھی کا ایک بال اکھاڑ لیا۔ پٹھانوں کو ایسے تبرک کا خدا موقع دے وہ بھی ٹوٹ پڑے اور ایک ایک بال اکھاڑ نے شروع کر دیئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ساری داڑھی نوچی گئی ۔ بظاہر یہ نہایت معمولی بات دکھائی دیتی ہے کہ ایک بال اکھاڑنے سے کیا ہوتا ہے لیکن ایک ایک بال کے اکھاڑنے کے نتیجہ میں اس کی ساری داڑھی نوچی گئی۔ پس بعض معمولی باتوں کا اجتماعی لحاظ سے نہایت اہم نتیجہ نکلتا ہے۔ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ وہ ان امور کا خیال رکھیں۔ آج ہی رستے میں مجھ سے ایک صاحب نے ایک سوال کیا۔ وہ بھی چونکہ اس کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں اسے بیان کردوں۔ وہ سوال یہ تھا کہ بعض مسائل جو احمدیت پیش کرتی ہے اگر ہم ان کو نہ مانیں تو اس سے کون سا حرج لازم آتا ہے اور انکے ماننے سے ہمیں مادی فائدہ کون سا پہنچ رہا ہے۔ یہ ایک عام سوال ہے جو آج کل کے تعلیم یافتہ لوگوں کے دلوں میں پیدا ہوتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر چیز کی قیمت روپوں اور پیسوں میں لگانے کے عادی ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر ہم یہ مسئلہ نہ مانیں تو کیا اس سے قوم کی زراعت کو نقصان پہنچے گا تجارت کو نقصان پہنچے گا، صنعت و حرفت کو نقصان پہنچے گا، تعلیم کو نقصان پہنچے گا آخر اس مسئلہ کے نہ ماننے سے کس چیز کو نقصان پہنچے گا۔ اگر کسی چیز کو نقصان نہیں پہنچے گا تو اس کے ماننے سے فائدہ کیا۔ لیکن