خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 426

خطبات محمود ۴۳۶ سال متضاد چیزیں ہیں اسی طرح عقل اور جذبات متضاد چیزیں ہیں۔لیکن جس طرح دانا آدمی آگ اور پانی ملا کر ان سے نہایت مفید کام لینا شروع کر دیتے ہیں۔انجن اور مشینیں انہیں دونوں کو ملانے سے چلتی ہیں۔اسی طرح ان دو متضاد چیزوں کو بھی ایک اور زبر دست چیز جوڑتی ہے اور وہ چیز جو انسانی مشین کے اندر عقل اور جذبات کو متحد کر دیتی ہے وہ وحی الہی ہے۔وگر نہ عقل اپنی جگہ نہایت مفید دکھائی دیتی ہے۔اور وہ پورے استقلال کے ساتھ اپنے اس دعویٰ پر اصرار کرتی چلی جاتی ہے کہ دنیا میں صرف جذبات کے ساتھ کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اور اگر ہم وحی الہی کو نظر انداز کردیں تو ہمیں ایسا ہی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح جذبات اپنی جگہ اس دعویٰ پر اصرار کرتے ہیں کہ خالی عقل دنیا میں کچھ نہیں کر سکتی۔اگر مجھے نظر انداز کر دیا جائے تو عقل بھی ناکارہ ہو جائے اور اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ دنیا کی تمام ترقی جذبات پر مخی منحصر ہے۔جذبات کہتے ہیں کہ عقل تو تجربہ کے بعد پیدا ہوتی ہے لیکن وہ بچہ جس نے آگے دنیا کو چلانا ہوتا ہے اس سے ماں باپ کی محبت کس چیز پر مبنی ہوتی ہے۔ظاہر ہے کہ انکی محبت عقل پر مبنی نہیں ہوتی۔بلکہ جذبات اس کا موجب ہوتے ہیں۔اگر جذبات اس محبت کا موجب نہ ہوتے تو کبھی ماں باپ اپنے بچوں کو کھانا نہ کھلاتے۔انہیں کپڑے نہ پہناتے۔ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھتے۔کیونکہ عقل کہتی ہے ، ممکن ہے یہ آج تم سے کھا پی کر بڑے ہو کر نا فرمان ہو جائیں۔یا عقل کہتی اپنے بچوں پر خرچ کرنے کی کیا ضرورت ہے جو روپیہ ہو اسے اپنے نفس پر خرچ کرو۔مگر جذبات عقل پر غالب آجاتے ہیں۔اور ماں باپ محض جذبات کی بناء پر کہتے ہیں ہمارا بچہ میں جان سے بھی زیادہ عزیز ہے۔اگر عقل کے ساتھ بعض بچے پالے بھی جاتے تو بھی عقل زیادہ سے زیادہ یہ دلیل دے سکتی تھی کہ بچوں کو اس لئے کھلایا پلایا جائے کہ وہ بڑھاپے میں ماں باپ کے کام آئیں گے۔مگر ایسے بھی تو بچے ہوتے ہیں جو ماں باپ کی آخری عمر میں پیدا ہوتے ہیں اور ماں باپ کو یقین ہوتا ہے کہ جب تک یہ جوان ہوں گے ہم قبروں میں چلے جائیں گے۔مگر باوجود اس کے ماں باپ انہیں پالتے اور ان کی پرورش کرتے ہیں بلکہ جتنے جتنے ماں باپ بوڑھے ہوتے جاتے ہیں اتنی ہی ان کی محبت بچوں سے زیادہ ہوتی جاتی ہے۔عام طور پر دنیا میں دستور ہے کہ جوانی کی اولاد اتنی پیاری نہیں ہوتی جتنی بڑھاپے کی ہوتی ہے۔حالانکہ جوانی کی اولاد کے متعلق تو یہ خیال بھی کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی وقت ہمارے کام آئے گی۔لیکن بڑھاپے کی اولاد کے متعلق تو ایسا خیال بھی پیدا نہیں ہوتا۔پس اولاد کی تربیت جذبات سے ہی وابستہ ہے عقل سے نہیں۔