خطبات محمود (جلد 13) — Page 416
خطبات محمود ۱۶ سال ۱۹۳۲ء پڑے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھ لو آپ اپنے زمانہ میں یہ دعوی فرماتے ہیں کہ تو فی کا لفظ جب انسان کے متعلق آئے اور فاعل اللہ تعالٰی ہو تو اس کے معنی سوائے قبض روح اور موت کے اور نہیں ہوتے۔ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص نہیں اٹھتا اور کسی میں طاقت نہیں تھے ہوتی کہ وہ اس کے وہ اس کے خلاف ثابت کر سکے۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جانتے۔ کہ قرآن اور لغت عرب آپ کی تائید میں ہیں۔ اور آپ یقین رکھتے تھے کہ یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا کی بات ہو اور پھر لغت عرب اس کے خلاف ہو۔ اس کے مقابلہ میں دوسرے لوگوں کے دلوں میں امید نہیں۔ اور وہ باوجود اس خیال کے کہ احمد یہ جماعت غلطی پر ہے ، پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کیا خبر که قرآن مجید ہمار ہمارے خلاف ہیں ؟ ہی ہو جائے ۔ حالا حالانکہ اگر انہیں اپنی سچائی پر یقین ہو او ر ا بین ہو اور اس بات پر بھی یقین ہو کہ احمدی غلط کہتے ہیں تو اس ڈر کے معنے ہی کیا ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة وال والسلام کے زمانہ کا ایک کا ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ آپ کے ایک دوست تھے جو مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے۔ ان کا نام نظام الدین تھا۔ انہوں نے سات حج کئے تھے ۔ بہت ہنس مکھ اور خوش مزاج تھے۔ چونکہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اور مولوی محمد حسین بٹالوی دونوں سے دوستانہ تعلقات رکھتے تھے اس لئے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوئی ماموریت کیا اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے آپ پر کفر کا فتوی لگایا تو ان کے دل کو بڑی تکلیف ہوئی کیونکہ ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نیکی پر بہت یقین تھا۔ وہ لدھیانہ میں رہا کرتے تھے اور مخالف لوگ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے خلاف کچھ کہتے تو وہ ان سے جھگڑ پڑتے اور کہتے کہ تم پہلے حضرت مرزا صاحب کی حالت تو جا کر دیکھو ۔ وہ تو بہت ہی نیک آدمی ہیں اور میں نے انکے پاس رہ کر دیکھا ہے کہ اگر انہیں قرآن مجید سے کوئی بات سمجھادی جائے تو وہ فورا ماننے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ وہ فریب ہر گز نہیں کرتے ۔ اگر انہیں قرآن سے سمجھا دیا جائے کہ ان کا دعویٰ غلط ہے تو مجھے یقین ہے کہ وہ فورا مان جائیں گے۔ بہت دفعہ وہ لوگوں کے ساتھ اس امر پر جھگڑتے اور کہا کرتے کہ جب میں قادیان جاؤں گا تو دیکھوں گا کہ وہ کس طرح اپنے دعوی ہے تو بہ نہیں کرتے۔ میں قرآن کھول کر انکے سامنے رکھ دوں گا اور جس وقت میں قرآن کی کوئی آیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمان پر جانے کے متعلق بتاؤں گا وہ فورا مان جائیں گے۔ میں خوب جانتا ہوں وہ قرآن کی بات سن کر پھر کچھ نہیں کہا کرتے۔ آخر ایک دن انہیں خیال آیا اور لدھیانہ سے