خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 415

خطبات محمود ۴۱۵ سال ۱۹۳۲ نا امیدی نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ لاکھوں ہو کر چند مسلمانوں سے خوف کھاتے تھے۔اس کے مقابلہ میں رسول کریم کی یہ تعلیم نہیں تھی کہ کفار کی باتیں نہ سنو بلکہ جب بھی رسول کریم پر احکام نازل ہوتے آپ فرمایا کرتے جاؤ اور کفار کو جا کر یہ باتیں سناؤ اور ان کی سند کیونکہ رسول کریم مایا کہ یہ امر خوب جانتے تھے کہ مسلمانوں کا ایک ایک آدمی ایک لشکر ہے۔اور کفار کا بڑے سے بڑا لشکر ایک آدمی سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔آپ سمجھتے تھے ہمارا جو بھی آدمی ان کے پاس جائے گاوہ ان میں سے کسی نہ کسی کو اپنے ساتھ کھینچ کر لائے گا۔مگر کفار یہ خیال کرتے تھے کہ ہمارا کوئی بھی آدمی اگر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی مجلس میں چلا گیا تو پھر وہ واپس نہیں آئے گا۔اس وجہ سے وہ بعض دفعہ کانوں میں روئی ٹھونس لیتے تاکہ کوئی بات رسول کریم می ای الیوم کی ان کے کانوں میں نہ پڑ جائے۔یہ مسلمانوں کی امید تھی جس نے انہیں غالب کر دیا اور یہ کفار کی ناامیدی تھی جس نے انہیں تھوڑے سے مسلمانوں کے مقابلہ میں نیچا دکھا دیا۔اب بھی اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے تو وہ کیا چیز ہے جو دوسرے مسلمانوں سے ہماری جماعت کو ممتاز کرتی ہے اور کیوں لوگ ہمارے اثر سے ڈرتے اور مولوی لوگ کہا کرتے ہیں کہ ان کے پاس نہ بیٹھو، ان کی کتابیں نہ پڑھو۔ان کی باتیں نہ سنو۔محض اس لئے کہ وہ جانتے ہیں یہ لوگ غالب آجائیں گے مگر ہم اپنی جماعت کے لوگوں کو دو سروں کی باتیں سننے سے منع نہیں کرتے بلکہ بعض دفعہ ناراض ہو جاتے ہیں کہ کیوں ہماری جماعت کے دوست دوسرے لوگوں سے ملتے نہیں اور کیوں انہیں اپنی باتیں نہیں سناتے۔ہم یہ بھی کہا کرتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی کتابیں پڑھو یہ بھی کہا کرتے ہیں ان کے پاس بیٹھو مگر وہ ہمارے پاس بیٹھنے سے منع کریں گے کیونکہ سمجھتے ہیں کہ احمدی اپنی باتیں منوالیں گے۔یہی فرق ہے جو ہم میں اور ان میں ہے۔اور یہ محض امید کی وجہ سے ہے۔ہم دوسروں سے ملنے سے اس لئے منع نہیں کرتے کہ ہم امید رکھتے ہیں ہم فاتح ہیں اور ایک دن دنیا کو فتح کر کے رہیں گے اور وہ اس لئے منع کرتے ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ ہم آج بھی گئے اور کل بھی گئے۔ہم جانتے ہیں کہ کوئی صورت ہو ہم ہر طرح ان پر غالب آجا ئیں گے کیونکہ حق ہمارے ساتھ ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر وہ قرآن پیش کریں تو ہم قرآن کے رو سے بحث کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔اگر وہ صحیح حدیثوں کے ذریعہ بحث کرنا چاہیں تو ہم اس پر بھی آمادہ ہو جاتے ہیں کیونکہ ہمیں امید اور یقین ہے کہ خدا کا کلام ہمارے ساتھ ہے۔اور ہو نہیں سکتا کہ کوئی صحیح حدیث خدا کے کلام کے خلاف ہو اور اس طرح ہمیں شکست اٹھانی