خطبات محمود (جلد 13) — Page 414
خطبات محمود سال ۶۱۹۳۲ اڑھائی کروڑ اس کی آبادی تھی اس کے مقابلہ میں ہندوستان کی آبادی ہی کروڑ ہے مگر انگریز یہاں پر آئے اور انہوں نے قبضہ جمالیا جس کی وجہ یہی تھی کہ ہندوستانیوں نے امید چھوڑ دی ۔ مگر جاپان انگریز بھی گئے ڈچ بھی گئے امریکن بھی گئے اور سب نے کوششیں کیں کہ کسی طرح جاپان کو زیر کرلیں مگر جاپان والوں نے امید نہ چھوڑی اور دس سال کے عرصہ میں سب کو اپنے ملک سے باہر نکال دیا غرض جو قومیں امید چھوڑ دیتی ہیں وہ ہار جاتی ہیں مگر جو امید قائم رکھتی ہیں اور امید کے ساتھ صحیح صحیح ۔ طریق اختیار کرتی ہیں او اور ر ا اس امر کا تہیہ کر لیتی ہیں کہ جو بھی مصیبت آئے آئیگی وہ اسے خوشی اور مسرت سے برداشت کریں گی وہ ایک نہ ایک دن کامیاب ہو کر رہتی ہیں اور یہی مطلب ہے امید کا۔ امید یہ نہیں کہ گھر میں بیٹھے خیالی پلاؤ پکاتے رہو یہ تو جنون ہے امید یہ ہے کہ انسان صحیح طریق اختیار کرے اور جو بھی علاج اللہ تعالیٰ نے کسی مرض کا مقرر کیا ہے اس سے فائدہ اٹھائے خواہ مرض روحانی ہو یا جسمانی سیاسی ہو یا اقتصادی بهر حال صحیح طریق اختیار کرے اور اس امر کا عزم کرلے کہ اس معاملہ یا معاملہ میں جو بھی مشکلات پیش آئیں گی وہ لی وہ سست نہیں کر سکیں گی بلکہ اور زیادہ کام کے لئے تیار کر دیں گی۔ اور پھر یقین رکھے کہ میں کامیاب ہو کر رہوں گا۔ اگر میں کامیاب نہ ہوا تو کیا ہے میری اولاد یہ کام کرے گی اور اگر وہ بھی مرگئی تو اس کی اولاد کام کرے گی یہاں تک کہ ایک دن یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ جائے گا یہ امید ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے اور یہ امید ہے جو اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ وہ قومیں جنہیں امید حاصل ہو جاتی ہے وہ ایک نہ ایک دن کامیاب ہو کر رہتی ہیں۔ اور وہ قو میں جن کے دلوں سے امید نکال لی جاتی ہے انہیں کبھی بھی کامیابی کا منہ دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء جو دنیا میں آتے ہیں وہ بھی امید کا پیغام لے کر آتے ہیں۔ مکہ معظمہ میں جب رسول کریم میم کے ساتھ صرف چند صحابہ تھے اور سارا عرب آپ کے خلاف تھا ایسے زمانہ میں کیا فرق تھا رسول کریم مسلم کی جماعت میں اور دوسرے لوگوں میں۔ اور کیوں قرآن مجید اُن پر حجت کرتا ہے کہ دیکھنا باوجود تمہاری ان کوششوں کے مسلمان کامیاب ہوں گے اور تم ناکام رہو گے - پھر وہ کیا چیز تھی جس کی وجہ کی وجہ سے محمد سلیم کے چند صحابہ یہ یقین رکھتے تھے کہ وہ لا کھوں کفار پر غالب آجائیں گے۔ وہ امید ہی تھی جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمائی۔ اور امید ہی تھی جو کفار کے ساتھ نہیں تھی یہی وجہ تھی کہ باوجو د لاکھوں ہونے کے کفار ڈرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی باتیں نہ سننا ان کی مجلس میں نہ جانا یہ