خطبات محمود (جلد 13) — Page 396
خطبات محمود ۳۹۶ سال ۱۹۳۲ء اینٹ ساری عمارت کو خراب کر دیتی ہے اسی طرح کوئی مخلوق خواہ وہ کتنی چھوٹی اور غیر اہم کیوں نہ ہو اس کی خرابی ساری دنیا کو خرابی کی طرف لے جاتی ہے۔ اور اگر ہم یہ سمجھ لیں کہ دنیا کی ساری مخلوق ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہے تو ہم کسی کے ساتھ کسی قسم کی برائی نہیں کر سکتے۔ جو انسان یہ سمجھتا ہے کہ امریکہ میں رہنے والی ایک مکھی کا بھی فائدہ اسے پہنچے گا تو کیا وہ حسد کر سکتا ہے کہ اس کے ہمسایہ کو فائدہ کیوں پہنچ گیا۔ ایسا کرنا تو گویا اپنے آپ سے حسد کرنے کے مترادف ہے ۔ کیا کوئی شخص اس بات پر حسد کر سکتا ہے کہ میرا معدہ مقوی غذا ئیں کیوں ہضم کر لیتا ہے ۔ یا میرے دماغ میں اچھے خیالات کیوں آتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ ان میں نقص پیدا ہو گیا تو مجھے نقصان پہنچے گا۔ تصوف والے تیرہ سو سال میں جس بات کو مکمل طور پر معلوم نہیں کر سکے وہ الْحَمْدُ لِلَّهِ کے ایک نکتہ میں ہے۔ تصوف والوں کا کسی کام تھا کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے تھے کہ دنیا کی ہر چیز میں باہم اتحاد ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ وہ عالم صغیر اور عالم کبیر کی بحثوں میں اس وجہ سے پڑے ہوئے تھے کہ دراصل وہ بتانا چاہتے تھے ۔ ہر انسان ایک عالم صغیر ہے اور عالم کبیر میں کوئی تغیر ہو یہ اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ دنیا کے کسی تغیر سے مستثنیٰ نہیں۔ حتی کہ وہ اپنے اشد سے اشد دشمن کی تباہی یا اس کے فائدہ سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اگر یہ نکتہ صحیح ہے اور یقینا صحیح ہے تو اپنے دشمن کے نقصان پر بھی ہمیں ایک رنگ میں افسوس اور اس کے فائدہ پر ایک رنگ میں خوشی ہونی چاہئے۔ کیونکہ اگر یہ نہ ہو تو ہم الْحَمدُ لله نہیں کہہ سکتے ۔ جس کے یہ معنی ہیں کہ وہ سارے جہانوں کا رب ہے اور ساری دنیا پر احسان کرتا ہے جس کے لئے ہم اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن جب اسی دنیا کے بعض اجزاء فردا فرد اہمارے سامنے آتے ہیں۔ اس وقت اگر ہم کہیں خدا نے فلاں پر احسان کر دیا یہ بڑا ظلم ہوا ۔ تب تو یوں کہنا چاہئے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَاتَأَسَفُ عَلَی اللہ یعنی میں اس کی حمد بھی کرتا ہوں لیکن اسکے لئے افسوس کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ اس نے میرے فلاں دشمن پر احسان کر دیا ۔ لیکن ہم ایسا نہیں کہتے بلکہ الْحَمْدُ للهِ رَبُّ الْعَلَمِينَ ہی کہتے ہیں۔ جس کے معنی سوائے اس کے کچھ نہیں کہ دنیا میں خدا تعالیٰ نے جس کسی پر بھی احسان کیا ہم اقرار کرتے ہیں کہ وہ احسان دراصل ہمارے اوپر ہی ہے۔ اس نکتہ کو مد نظر رکھتے ہوئے دیکھو کیا کوئی شخص کسی سے اندھا دھند مخالفت کر سکتا ہے اور کسی کا دشمن ہو سکتا ہے۔ اسی نکتہ کو اگر دنیا سمجھتی تو کبھی کسی نبی کا انکار نہ کرتی اور بھی بہت سے فوائد ہیں لیکن چونکہ میرے گلے میں اتنی تکلیف ہے کہ گھر سے آتے وقت میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ معذرت