خطبات محمود (جلد 13) — Page 390
خطبات محمود ۳۹۰ 46 سال ۲ دینی اور دنیوی امور میں مایوسی سے بچو (فرموده ۴- مارچ ۱۹۳۲ء بمقام دیلی) تشهد و تعوز اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جس طرح جسم ایسے غیر معلوم بیماریاں پیدا کرنے والے اثرات کے نیچے آتا ہے کہ بسا اوقات ان کے اسباب و علل کا علم سالوں کے بعد ہوتا ہے اسی طرح انسان کی روح مختلف اسباب کے اثرات کے نیچے آتی ہے اور اس کا علم انسان کو مدتوں تک نہیں ہو تا بسا اوقات جبکہ انسان یہ خیال کرتا ہے کہ میں روحانی طور پر تندرست ہوں لیکن حقیقت میں وہ بیمار ہوتا ہے جس کا اسے علم نہیں ہو تا اور بسا اوقات وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں لاعلاج بیمار ہوں حالانکہ اسی لمحہ کوئی روحانی اثر اس کے اندر ایک تبدیلی کر رہا ہوتا ہے اسی طرح ایک تندرست انسان جس کے اندر بیماری کے جراثیم ہوتے ہیں وہ اپنے آپ کو تندرست خیال کرتا ہے حالانکہ وہ بیماری کی طرف جارہا ہوتا ہے اور ایک دوسرا شخص یہ خیال کرتا ہے کہ میں لاعلاج ہوں لیکن حالت اس کے بر عکس ہوتی ہے یہی حالت روحانی اثرات کے متعلق ہوتی ہے۔ایک شخص خیال کرتا ہے کہ میں نیک ہوں حالا نکہ وہ گمراہ ہوتا ہے۔لیکن ایک دوسرا شخص جو اپنے آپ کو گمراہ خیال کرتا ہے حقیقتاً اس کے اندر نیکی کی تحریک پیدا ہو رہی ہوتی ہے لیکن جہاں جسمانی بیماریوں کے متعلق یہ آسانی ہے کہ ان کے متعلق انسان کو کم سے کم اس وقت جب بیماری کمال پر ہوتی ہے اس کے لاحق ہو جانے کا اعتراف کرنا پڑتا ہے وہاں روحانی حالت میں جو بیماری ہوتی ہے اس کا احساس نہیں ہوتا۔روحانی حالت میں انسان اپنے آپ کو بیمار قرار دینا پسند نہیں کرتا جیسے طاعون والے آدمی بیماری کے دنوں میں اس بیماری کو چھپاتے تھے تاکہ لوگ ان سے دور نہ بھاگ جائیں اور انہیں علیحدہ نہ