خطبات محمود (جلد 13) — Page 370
خطبات محمود ٣٧٠ سال ۱۹۳۲ء نکال دیا گیا یا انہیں کام کرنے سے روکا گیا ہے تو اس سے ہمارے کام کو نقصان پہنچے گا۔کوئی کام ہو خواہ دینی ہو یا د نیونی اللہ تعالی کا فضل ہمارے شامل حال ہے اور وہ ہمیں ہر میدان میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔پس یہ اس ریاست کی بیوقوفی ہے جو یہ خیال کرتی ہے کہ وہ ہمارے آدمیوں کو نکال کر اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جائے گی۔خواہ وہ ایک ایک کر کے ان تمام لوگوں کو ریاست کشمیر سے نکال دے جو احمدیت پر قائم ہیں اور خواہ سب کے مونہوں کو بند کر دے پھر بھی ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالٰی اس کام کو سرانجام دے گا اور احمدیوں کے علاوہ دوسروں کے دلوں میں تحریک پیدا کرے گا اور وہ ہماری تجاویز کے مطابق کام کریں گے۔اور ہم برابر دیکھ رہے ہیں کہ ادھر ریاست ہمارے آدمیوں کو نکالتی ہے اور ادھر اور ایسے آدمی کھڑے ہو جاتے ہیں جو کام کو بند ہونے نہیں دیتے۔پس یہ ریاست کی غلطی ہے جو یہ خیال کرتی ہے کہ اس طرح آزادی کی جدوجہد میں وہ رکاوٹیں پیدا کر دے گی۔لیکن باوجود اس کے ہر قوم کا فرض ہے کہ جب اس کے نمائندوں کو کسی ملک یا ریاست سے نکال دیا جائے تو وہ تمام کی تمام قوم ایک کامل عزم لے کر اٹھے اور یہ تہیہ کرلے کہ اب خواہ کچھ ہو جائے اس کام سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔میں بتا چکا ہوں کہ یہ خیال کرنا کہ اس کام کا مذ ہب سے کوئی تعلق نہیں غلطی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے علاوہ تو رات کے نزول کے جو ایک مذہبی کام تھا اللہ تعالیٰ نے یہ کام بھی لیا کہ آپ کے ذریعہ فرعون کے ظلم و تشدد سے بنی اسرائیل کو نجات دلائی۔یہی مثال اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔اس وقت کشمیری قوم بھی ابتدائی انسانی حقوق سے محروم ہے اور سالہا سال سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑی چلی آتی ہے۔پس اس وقت ان کی حفاظت کرنا ہمارا نہ ہی فرض ہے۔اور گو ایسانہ ہی کام نہیں جیسے تبلیغ ہے مگر بہر حال اس کا مذہب سے تعلق ہے۔ہمارا ان مولویوں جیسا فتویٰ نہیں جو یہ کہہ کر کہ یہ مذہبی کام ہے جہاد کا اعلان کر دیتے ہیں بلکہ ہمارا پہلے بھی یہ فتویٰ تھا اور اب بھی ہے اور ہمیشہ یہی ہو گا کہ یہ ایسانہ ہی معاملہ ہے جیسا کہ رسول کریم نے فرمایا مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ وَ عِرْضِهِ فَهُوَ شَهیدو جو شخص اپنے مال اور عزت کی حفاظت میں مارا جاتا ہے وہ شہید ہوتا ہے۔یہ اگرچہ ویسی شہادت نہیں ہوتی جو اسلامی جنگوں میں کسی مومن کو حاصل ہوتی ہے۔مگر پھر بھی اسے شہادت کا رنگ دے دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چونکہ میرے اس بندہ نے اچھے اخلاق کے لئے اپنی جان دی ہے اس لئے شہید ہے۔مگر یہ اس قسم کی شہادت نہیں