خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 369

خطبات محمود ۳۶۹ سال ۱۹۳۲ء کا فر تھا آپ کو مسجد میں شہید کر دیا ہے۔تو صحابہ کی تو یہ حالت تھی کہ وہ خدا کی راہ میں جان دینا اللہ تعالی کا انعام اور اس کا خاص احسان سمجھتے تھے۔کیا تمہاری جانیں صحابہ سے زیادہ قیمتی ہیں جنہیں اگر با ہر شہادت کا موقع نہیں ملتا تھا تو وہ گھروں میں ہی شہادت کے لئے دعائیں کیا کرتے تھے۔حالا نکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی یہ دعا نہایت ہی خطرناک تھی۔اس کا صاف طور پر یہ مطلب تھا کہ یا تو جماعت میں ایسے منافق پیدا ہو جائیں جو مجھے شہید کر دیں یا بیرونی دشمن اتنا قوی ہو جائے کہ وہ مدینہ پر حملہ کرے۔اور اتنی کامیابی حاصل کرلے کہ وہ خلیفہ کو شہید کر دے، مگر جوش اخلاص میں انہوں نے اس امر کا خیال نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے اخلاص کو دیکھ کر مدینہ کو بیرونی حملوں سے تو بچالیا لیکن ایک شخص مدینہ سے ہی کھڑا ہوا جس نے آپ کو شہید کر دیا۔پس تبلیغ سلسلہ پر زور دو اور پہلے سے زیادہ جوش کے ساتھ کام کرو۔اور یاد رکھو کہ موت سے مت ڈرو کیونکہ مؤمن اور خوف دو متضاد چیزیں ہیں۔دوسرا کام جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے وہ مظلومان کشمیر کی امداد کا ہے۔اس وقت غلط طور پر ریاست کشمیر سخت جوش میں آئی ہوئی ہے اور اس نے اسی جوش میں ہمارے آدمیوں کو جو وہاں کام کر رہے تھے نکال دیا ہے اور خوش ہو رہی ہے کہ اس طرح اس نے ہمارے آدمیوں کو نقصان پہنچا دیا اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی حالانکہ ہمارے آدمی تو آسمان سے اترتے ہیں اور اگر ایک نکال دیا جائے تو اس کے ہزاروں قائم مقام پیدا ہو جاتے ہیں۔افغانستان کو ہی دیکھ لو ہمارے آدمیوں کو وہاں سے نکالا گیا ، انہیں مارا پیٹا اور قید کیا گیا۔بعض کو سنگسار بھی کیا گیا مگر کیا ان کی مخالفانہ تدابیر کے ذریعہ وہاں احمدیت مٹ گئی یا کیا ہمارے کام کو نقصان پہنچا۔احمدیت کی تاریخ بتلاتی ہے کہ اللہ کے فضل سے باوجود افغانستان میں احمدیوں کو شدید تکالیف دیئے جانے کے پھر بھی احمدیت بڑھی۔یہاں تک کہ جب امان اللہ خان افغانستان سے نکلا تو اس کے ایک درباری نے مجھے خط لکھا کہ آپ خیال کرتے ہوں گے شاید افغانستان میں اب احمدی نہیں۔اور ہم لوگ آپ سے واقفیت نہیں رکھتے۔گو آپ ہمیں نہیں جانتے مگر ہم آپ سے واقف ہیں۔ہم امان اللہ خان کے درباریوں میں سے تھے اور احمدی تھے۔ہم نے ایک خفیہ انجمن بنار کبھی تھی اور ہمارا کام یہ تھا کہ جب کسی کو دیکھتے کہ وہ سعید اور نیک فطرت رکھتا ہے تو اسے احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے۔تو اللہ تعالٰی نے ایسے ایسے علاقوں میں ہماری تبلیغ کو کامیاب کیا ہے جہاں ظاہری لحاظ سے سب سے زیادہ مشکلات پیدا کی جارہی تھیں۔پھر ہم کیونکر سمجھ لیں کہ اگر کشمیر سے ہمارے آدمیوں کو