خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 362

خطبات محمود ۳۶۲ 43 دعوت الی اللہ پر زور دو اور مخالفین کا ڈر دل سے نکال دو (فرموده ۱۲ فروری ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- اللہ تعالی پر ایمان جہاں انسان کے اندر اور بہت سی خوبیاں پیدا کر دیتا ہے وہاں ایک جرأت اور بہادری بھی ہے جو ایمان کے ساتھ ہی انسان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔ ایمان اور نفاق کبھی ایک انسان کے اندر جمع نہیں ہو سکتے بلکہ جس شخص کے دل میں نفاق داخل ہو جائے ایمان اس کے دل سے نکل جاتا ہے اور جس شخص کے دل میں ایمان داخل ہو جائے نفاق اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں منافقوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ بزدل ہوتے ہیں لیکن مؤمنوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ بہادر اور دلیر ہوتے ہیں۔ اور کافروں کی نسبت فرماتا ہے کہ گو وہ بہادری تو دکھا سکتے ہیں لیکن چونکہ ان کے سامنے امید اور کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا اس لئے ان کی بہادری دیر پا نہیں ہوتی۔ ان تینوں طبقوں کا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں الگ الگ نقشہ کھینچا ہے۔ مؤمن کے متعلق تو فرمایا کہ اگر معمولی ایمان رکھنے والا بھی ہو تو بھی ایک مؤمن دو مخالفوں پر بھاری ہوتا ہے اور ام ہے اور اگر اس کا ایمان اور زیادہ پختہ اور مضبوط ہو جائے تو ایک مؤمن دس مخالفوں پر بھاری ہو جاتا ہے اور اگر اس ۔ اس سے بھی زیادہ ایمان ہو تو اسی نسبت ۔ اور زیادہ دشمنوں پر بھاری ہوتا ہے۔ چنانچہ دیکھ اور سول کریم میں اکیلے تھے مگر باوجود اس کے آپ ساری دنیا پر بھاری تھے آپکے سامنے ایک یا دو یا دس یا میں دشمنوں کا سوال نہ تھا بلکہ ساری دنیا آپ کی مخالف تھی ساری دنیا آپ کی دشمن تھی اور ساری دنیا مل کر آپ کو اپنے مقاصد میں نا کام رکھنا چاہتی تھی مگر باوجود اس کے کہ آپ اکیلے تھے اور باوجود اس کے کہ آپ ساری دنیا وه