خطبات محمود (جلد 13) — Page 360
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء کردیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔جو قیصر کا ہے وہ اسے دو اور جو میرا ہے مجھے دو۔گویا آپ کی مراد یہ تھی کہ زمین کالگان وغیرہ تو اہل روم ہی کو دو۔لیکن چندہ وغیرہ اور دین کی خاطر قربانیاں میرے ذریعہ کرو۔بلکہ انہوں نے لطیفہ کے طور پر کہا کہ سکہ پر کس کی تصویر ہے جواب دیا گیا روم کے بادشاہ کی تو آپ نے فرمایا کہ پھر جو روم کا ہے اسے دو پس مالیہ نہ دینا نا جائز ہے۔خواہ حکومت کتنی ہی ظالم کیوں نہ ہو۔خوب یاد رکھو جو حکومت رعایا کا آخری پیسہ بھی وصول کر لیتی ہے وہ خود بھی تباہ ہو جاتی ہے۔ہاں جس شخص سے حکومت آخری پیسہ لے لیتی ہے اور پھر دینے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں رہتا تو لَا يُكلف الله نفسال کے ماتحت وہ معذور ہے اور تب اگر وہ دن آئے کہ حکومت کپڑے اتار لے اور بیل وغیرہ بیچ لے۔جیسا کہ حکومت کشمیر نے میر پور کے علاقہ میں کیا ہے تو وہ یقینا تباہ ہو کر رہے گی۔وہ درندہ اور وحشی حکومت جو زمیندار کے بیل وغیرہ بھی چھین لیتی ہے وہ ضرور تباہ ہو کر رہے گی۔اور حکومت برطانیہ کی فوجیں تو ہیں اور ہوائی جہاز بلکہ تمام دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اسے بچا نہیں سکتیں۔وہ ہر گز ہر گز دنیا میں رہنے کے قابل نہیں۔اور اسی وجہ سے اگر حکومت کشمیر اس وحشت اور ظلم سے باز نہ آئے گی تو یقینا اس کی رعایا برباد ہو کر خود اسے بھی برباد کر دے گی۔کون سا مہاراجہ ہے جو ویرانہ پر حکومت کر سکے۔پس باوجود یکہ ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ کسی کا حق نہیں کہ حکومت کو ٹیکس نہ ادا کرے۔اور جو ایسا کرتا ہے وہ باغی ہے۔دوسرے کاموں میں ہم اس سے ہمدردی کا اظہار کریں گے لیکن اس معاملہ میں ہر گز اس کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔میں یہ ضرور کہوں گا کہ مفلوک الحال اور قلاش زمینداروں کو تنگ کرنا اپنی تباہی کا باعث ہے۔ہندوستان کے لئے حقوق طلبی میں ہم کسی سے پیچھے نہیں۔اگر جائز طور پر حکومت کا مقابلہ کیا جائے تو ہم گاندھی جی کے دوش بدوش کام کرنے کو تیار ہیں۔لیکن ناجائز طریق اگر ہمارا بھائی بھی اختیار کرے تو ہم اسے صاف کہہ دیں گے کہ تم بے شک ہمارے بھائی ہو لیکن اس معاملہ میں ہم تمہار ا ساتھ نہیں دے سکتے۔پس اس امتیاز کو سمجھو اور دونوں فتنوں کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کرو۔پھر صوبہ سرحد میں معلوم ہوا ہے کہ بعض افسروں نے بہت زیا دتیاں کی ہیں۔حکومت ہند کے وہ وزیر جو اس محکمہ کے انچارج ہیں ان سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں اور میری ان سے متعدد بار ملاقات ہو چکی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی ان کو کسی نقص کی طرف توجہ دلائی گئی انہوں نے اس پر ضرور توجہ کی ہے۔وہ غیر معمولی طور پر شریف آدمی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ