خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 360

خطبات محمود ۳۶۰ سال ۱۹۳۲ء کر دیں۔ آپ نے فرمایا نہیں ۔ جو قیصر کا ہے وہ اسے دو اور جو میرا ہے مجھے دو۔ گویا آپ کی مراد یہ تھی کہ زمین کالگان وغیرہ تو اہل روم ہی کو دو ۔ لیکن چندہ وغیرہ اور دین کی خاطر قربانیاں میرے ذریعہ کرو۔ بلکہ انہوں نے لطیفہ کے طور پر کہا کہ سکہ پر کس کی تصویر ہے جواب دیا گیا روم کے بادشاہ کی تو آپ نے فرمایا کہ پھر جو روم کا ہے اسے دو۔ پس مالیہ نہ دیتا نا جائز ہے۔ خواہ حکومت کتنی ہی ظالم کیوں نہ ہو۔ خوب یاد رکھو جو حکومت رعایا کا آخری پیسہ بھی وصول کر لیتی ہے وہ خود بھی تباہ ہو جاتی ہے ۔ ہاں جس شخص سے حکومت آخری پیسہ لے لیتی ہے اور پھر دینے کے لئے اس کے پاس کچھ نہیں رہتا تو لا يُكَلِّفُ الله نفسال کے ماتحت وہ معذور ہے اور تب اگر وہ دن آئے کہ حکومت کپڑے اتارے اور بیل وغیرہ بیچ لے۔ جیسا کہ حکومت کشمیر نے میرپور کے علاقہ میں کیا ہے تو وہ یقینا تباہ ہو کر رہے گی۔ وہ درندہ اور وحشی حکومت جو زمیندار کے بیل وغیرہ بھی چھین ہے وہ ضرور تباہ ہو کر رہے گی۔ اور حکومت برطانیہ کی سیہ کی فوجیں تو ہیں اور ہوائی جہاز بلکہ تمام دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اسے بچا نہیں سکتیں۔ وہ ہرگز ہر گز دنیا میں رہنے کے قابل نہیں۔ اور اسی وجہ سے اگر حکومت کشمیر اس وحشت اور ظلم سے باز نہ آئے گی تو یقینا اس کی رعایا برباد ہو کر خود اسے بھی برباد کر دے گی۔ کون سا مہاراجہ ہے جو ویرانہ پر حکومت کر سکے۔ لیتی پس باوجود یکہ ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ کسی کا حق نہیں کہ حکومت کو ٹیکس نہ ادا کرے ۔ اور جو ایسا کرتا ہے وہ باغی ہے ۔ دوسرے کاموں میں ہم اس سے ہمدردی کا اظہار کریں گے لیکن اس معاملہ میں ہرگز اس کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے۔ میں یہ ضرور کہوں گا کہ مفلوک الحال اور تلاش زمینداروں کو تنگ کرنا اپنی تباہی کا باعث ہے۔ ہندوستان کے لئے حقوق طلبی میں ہم کسی سے پیچھے نہیں۔ اگر جائز طور پر حکومت کا مقابلہ کیا جائے تو ہم گاندھی جی کے دوش بدوش کام کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن ناجائز طریق اگر ہمارا بھائی بھی اختیار کرے تو ہم اسے صاف کہہ دیں گے کہ تم بے شک ہمارے بھائی ہو لیکن اس معاملہ میں ہم تمہارا ساتھ نہیں دے سکتے۔ پس اس امتیاز کو سمجھو اور دونوں فتنوں کا دلیری کے ساتھ مقابلہ کرو۔ پھر صوبہ سرحد میں معلوم ہوا ہے کہ بعض افسروں نے بہت زیادتیاں کی ہیں۔ حکومت ہند کے وہ وزیر جو اس محکمہ کے انچارج ہیں ان سے میں ذاتی طور پر واقف ہوں اور میری ان سے متعدد بار ملاقات ہو چکی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی ان کو کسی نقص کی طرف توجہ دلائی گئی انہوں نے اس پر ضرور توجہ کی ہے۔ وہ غیر معمولی طور پر شریف آدمی ہیں اور مجھے یقین ہے کہ