خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 356 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 356

خطبات محمود ۳۵۶ سال ۱۹۳۲ء نہیں مانتا اور اسی طرح شاگر داستادوں کی نافرمانی کریں گے۔گویا یہ تحریک ہماری اہلی زندگی کو تباہ اور اولاد کی تربیت کا ستیاناس کرنے والی ہے۔اگر آج بچوں کو انگریزی قانون توڑنے کا عادی بنایا جائے گا تو یقینا کل شاگر د استاد کو بیٹی ماں کو اور لڑ کا باپ کو جواب دے گا۔اور یہ سلسلہ یہاں تک پھیلے گا کہ ملک کی حالت بالکل خراب ہو جائے گی۔دراصل حقوق حاصل کرنے کے لئے صبر، تقوی ، نیکی ہمت اور صداقت سے کام لینا چاہئے۔جو قوم سچائی کے ساتھ اپنا حق لینا چاہے اسے کوئی محروم نہیں رکھ سکتا۔صداقت خواہ ایک آدمی لے کر کھڑا ہو ، جھوٹ کو اس کے سامنے ضرور ذلت اٹھانی پڑتی ہے۔بڑی سے بڑی حکومت بھی اس کے سامنے دب جاتی ہے۔جائز حقوق حاصل کرنے کے لئے ناجائز ذرائع اختیار کرنا کسی صورت میں بھی مناسب نہیں۔جو قوم جائز ذرائع سے جد وجہد کرتی ہے اور صداقت کے ساتھ اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے ساری دنیا کی حکومتیں مل کر بھی اسے محروم نہیں کر سکتیں۔جو حکومت رعایا کے بیدار جذبات کا لحاظ نہیں کرتی اور اسے خوش رکھنے کی کوشش نہیں کرتی، وہ خود بخود تباہ ہو جائے گی۔اس لئے گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں۔پکٹنگ اور سول نافرمانی وغیرہ تحریکات کا پورے زور کے ساتھ مقابلہ کرو۔مگر انگریز کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ اپنے دین کے فائدہ کے لئے ملک کے فائدہ کے لئے اور آئندہ نسلوں کے فائدہ کے لئے کسی سے ہر گز مت ڈرو اور یاد رکھو کہ جو انسان سے ڈرتا ہے وہ مشرک ہے اور ہرگز مومن نہیں کہلا سکتا۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے پولیس میں رپورٹ کی مگر اس نے کوئی توجہ نہیں کی۔یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے اس قوم کے متعلق جو کبھی بزدلی میں ضرب المثل تھی مگر آج پوری دلیری کا اظہار کر رہی ہے ، مشہور ہے کہ اسکی فوج نے کہا تھا ہم لڑائی پر تو جاتے ہیں مگر ہمارے ساتھ پولیس کے سپاہی حفاظت کے لئے ضرور ہونے چاہئیں۔اگر انگریز تمہارا پہریدار بن سکتا تو وہ خود اپنی حفاظت ہی کیوں نہ کر لیتا۔وہ آج خود فسادات کی کثرت کی وجہ سے ضعف و اختلال کا شکار ہو رہا ہے۔اور اگر ایسا نہ بھی ہو تب بھی ہر اک حکومت ملک میں نظام کو قائم رکھنے کے لئے رعایا کی امداد کی محتاج ہوا کرتی ہے۔پس یہ خیال نہ کرو کہ انگریزی پولیس توجہ نہیں کرتی۔پولیس اس وقت خود خطرہ میں ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ تمہارے مقابلہ میں اپنے مخالفوں کا ساتھ دینے لگ جائے۔پولیس کے اندر بھی غدار موجود ہیں ادھر ایک شخص کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کا مشورہ ہوتا ہے اور ادھر اسے اطلاع ہو جاتی ہے۔پس یہ خیال مت کرو کہ پولیس مدد کرے گی۔