خطبات محمود (جلد 13) — Page 355
خطبات محمود ۳۵۵ سال ۱۹۳۲ء ساگ ڈال کر کھا رہا ہے۔مالک یہ دیکھ کر سخت برہم ہوا اور کہنے لگا کہ دیکھو تم میرا برتن ایک دن کے لئے مانگ کر لے آئے تھے لیکن آج تک واپس نہیں کیا اور اس وقت بڑے مزے سے اس میں ساگ ڈال کر کھا رہے ہو۔میں بھی دیکھنا تمہارا برتن مانگ کر لے جاؤں گا اور اس میں کوئی نجس چیز ڈال کر کھاؤں گا۔اب بظاہر تو وہ بدلہ لینے کی دھمکی دیتا ہے لیکن نہایت ہی نامعقول صورت کا بدلہ ہے۔اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ نجاست کھانے سے تو اس کا اپنا نقصان ہو گا۔پس انتقامی جذبات بھی انسان کو خراب کر دیتے ہیں۔یہ اصول ٹھیک نہیں کہ چونکہ انگریز ناجائز کام کرتے ہیں اس لئے ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہئے۔حالانکہ ہمیں تو جو کرنا چاہیئے خدا کے حکم کے ماتحت کرنا چاہئے اور ملک میں قیام امن خدا تعالی کا حکم ہے۔پس اگر انگریز خود امن نہ بھی قائم کریں۔جب بھی ہمیں چاہئے کہ اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر بھی اسے قائم کریں۔اور یہ انگریز کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالٰی کے حکم کے لئے اور اپنی اولادوں کو بد اخلاقی سے بچانے کے لئے ہے۔اگر کسی وجہ سے ہم اس فرض سے دست کش ہو جائیں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ نادانی کی وجہ سے ہم اپنی اولادوں کو بگاڑتے ہیں اور اس میں انگریز کا نہیں بلکہ ہمارا اپنا نقصان ہے۔اس لئے میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ قتل و غارت گری جو بعض لوگ ملک میں کر رہے ہیں ، اس کا مقابلہ کرنا اس کا فرض ہے۔میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر کہا تھا کہ اس کا مقابلہ کرنے کے لئے میں عنقریب ایک سکیم پیش کروں گا جس کی تفصیلات اس وقت زیر غور ہیں۔لیکن جب تک وہ عمل میں نہ آئے جماعت کا فرض ہے کہ جس طرح ہمیشہ اپنی اپنی جگہ پر ایسی تحریکات کا مقابلہ کرتی رہی ہے اسی طرح اس موقع پر بھی کرے۔قطع نظر اس سے کہ حکومت ہماری ہتک کرتی ہے ، تذلیل کرتی ہے ، ہمیں سزائیں دیتی ہے ، جرمانے کرتی ہے ہمارا یہ فعل خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے اس کے دین کے قیام کے لئے اسی طرح اپنے ملک اور اپنی اولادوں کی اصلاح کے لئے ہونا چاہئے۔ایسی شرارتیں بعض اوقات خود حکومتیں بھی کرادیا کرتی ہیں تارعایا پر زیادہ تشدد اور ظلم کا موقع مل سکے۔اور میں کہوں گا اگر خود حکومت کی طرف سے بھی ایسی، حرکات ہو رہی ہوں تب بھی ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے کیونکہ ہم انگریز کے لئے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضاء دین ملک اور اپنی اولادوں کی بہتری کے لئے ایسی تحریکات کے مخالف ہیں۔اسی طرح ملک کے اندر قانون شکنی کی جو روح پیدا ہو رہی ہے اسے بھی روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔آج جن بچوں کو کہا جاتا ہے کہ جاؤ انگریزی قوانین تو ڑ دو وہ کل ضرور باپ سے کہیں گے کہ جاؤ میں تمہاری بات