خطبات محمود (جلد 13) — Page 354
خطبات محمود ۳۵۴ سال ۱۹۳۲ء اس وقت یہاں بہت سے فتنے ہیں ایک تو مسلمانوں کی حق تلفی کا سوال ہے اور دوسرے حکومت کے خلاف شورش۔اس حکومت کو خواہ غاصبانہ ظالمانہ یا غیر ملکی کہہ لو لیکن بہر حال ملک کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہے اسے ایسے طور پر تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے ملک کے اخلاق بگڑ جائیں اور عام بد امنی شروع ہو جائے اور یہ ایسی باتیں ہیں جن سے ملک کا کوئی حقیقی خیر خواہ آنکھیں بند نہیں کر سکتا۔ان دونوں فتنوں کا مسلمانوں کو ہوشیاری سے مقابلہ کرنا چاہئے۔بعض نادان کہہ دیتے ہیں کہ حکومت چونکہ ہمارے جائز حقوق کو تسلیم نہیں کرتی اس لئے میں بھی اس جھگڑے میں پڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ غیر جانبدار رہنا چاہئے اور کانگریس اور انگریز کو لڑنے دینا چاہئے۔بلکہ بعض نادان تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اگر حکومت ہمارے حقوق نہ دے تو ہمیں کانگرس سے مل جانا چاہئے۔بعض احمدیوں کو شکایت ہے کہ فساد کے موقع پر انہوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈال کر حکومت کی مدد کی لیکن جب تعزیری ٹیکس لگا تو احمدی بھی اس میں شامل کر لئے گئے۔میں مانتا ہوں کہ یہ سب کچھ درست ہے اور گورنمنٹ کے فرائض میں ہے کہ ایسا نہ کرے لیکن اگر وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں سستی اور کو تاہی کرتی ہے تب بھی ہمیں اپنے فرض کو نہیں چھوڑنا چاہئے۔اگر انگریز ایک جرم کرتے ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ ہم بھی بد اخلاق ہو جائیں۔اگر کوئی شخص ہماری چوری کرتا ہے تو ہمیں ہر گز اس کا مال چرا کر نہیں کھالینا چاہئے۔خدا تعالی نے ہر چیز کے لئے راستے مقرر کئے ہیں اور حکم دیا ہے کہ ان کے ذریعہ اپنے حقوق حاصل کرو۔قرآن کریم میں حکم ہے کہ وَآتُوا الْبُيُوتَ مِنْ اَبْوَا بھا ہے یعنی ہر کام کے لئے اللہ تعالٰی نے دروازے رکھے ہیں اور انہی کے راستہ اسے سرانجام دینا چاہئے۔یہ نہیں کہ اپنا مکان سمجھ کر جدھر سے مرضی ہو چلے آؤ بلکہ دروازہ کے راستے سے ہی آؤ۔یہ نادانی اور جہالت ہے کہ چونکہ ہمارا حق ہے اس لئے جس طرح بھی لے سکیں لے لیں۔کیونکہ باوجود حق ہونے کے اللہ تعالیٰ نے بعض رستے مقرر کئے ہیں اور انہی کے ذریعہ حق لیا جا سکتا ہے۔پس گو بعض دفعہ گورنمنٹ امن قائم کرنے والوں کی تذلیل بھی کرتی ہے ان پر تعزیری ٹیکس بھی لگا دیتی ہے ہمیں اپنے فرض کو فراموش نہ کرنا چاہئے۔اگر وہ جرم کرتی ہے تو خدا کے سامنے جوابدہ ہوگی۔اور شاید اسی دنیا میں حکومت کی کمزوری کی صورت میں وہ اپنی سزا پائے مگر اس کے یہ معنی نہ ہونے چاہئیں کہ ہم اپنے فرائض ترک کر دیں۔یہ تو وہی مثال ہوگی کہ کہتے ہیں کوئی شخص کسی کا برتن عاریتا مانگ کر لے گیا اور عرصہ تک واپس نہ کیا۔ایک دن جو وہ واپس لینے کے لئے اسکے مکان پر گیا تو دیکھا کہ اس میں