خطبات محمود (جلد 13) — Page 352
خطبات محمود ۳۵۲ سال ۱۹۳۲ء گی۔ پس جہاں دوست مظلومین کشمیر کے لئے دعا کریں وہاں یہ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مہا راجہ صاحب کو اس وجہ سے کہ وہ ایک نیک باپ کے بیٹے ہیں اپنے غضب سے بچائے کیونکہ اس کی سنت ہے کہ وہ نیکوں کی اولاد کو اپنے غضب سے بچاتا ہے۔ میری عادت ہے کہ میں کبھی کسی کے لئے بد دعا نہیں کرتا لیکن ریاست کشمیر کی طرف سے غریب مسلمانوں پر اس قدر مظالم روا رکھے جا رہے ہیں کہ کئی بار بد دعا کی طرف دل مائل ہو جاتا ہے اور چہرا روکنا پڑتا ہے۔ کیونکہ میں خدا تعالٰی کے اس اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ رَحْمَتِی وَسِعَتْ كُلَّ شئے بد دعا سے پر ہیز کرتا ہوں۔ میں احباب جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تمہیں لاکھ انسانوں کی قوم سینکڑوں سال سے ظلم اور استبداد کے نیچے چلی آتی ہے۔ پھر وہ ہماری تحقیق کے مطابق بنی اسرائیل میں سے ہے۔ وہی بنی اسرائیل جنہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ان کے ذریعہ فرعون کے مظالم سے نجات دلائی تھی۔ اور کوئی تعجب نہیں کہ وہ پھر اس فرعونی حکومت سے ان غریبوں کو بھی بچانا چاہتا ہو ۔ اس لئے اس معاملہ میں ہماری مدد اس کی خوشنودی کا موجب ہوگی۔ پس جماعت کے دوستوں کو چاہئے کہ اس موقع سے محروم نہ رہیں۔ اور اس معاملہ میں یہ کبھی خیال نہیں کرنا چاہئے کہ وہ لوگ ہماری جماعت سے تعلق نہیں رکھتے ، ہمیں ان کی مدد کی کیا ضرورت ہے۔ جس طرح خدا تعالیٰ کا احسان اپنے پرائے میں کوئی فرق نہیں کرتا اسی طرح مومن کے احسان میں بھی کوئی اس قسم کی تمیز نہ ہونی چاہئے ۔ قرآن کریم کی سورۃ نور میں مذکور ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا پر جن لوگوں نے بہتان لگایا ان میں سے بعض کے رشتہ داروں نے آئندہ ان سے حسن سلوک کرنا بند کر دیا ۔ اس پر خدا تعالیٰ نے خاص طور پر حکم دیا کہ احسان کو مت رو کو بلکہ بد ستور کرتے جاؤ ۔ پس یہ خدا تعالی کی تعلیم ہے جس پر ہمیں عمل کرنا چاہئے ۔ اور ان بے چاروں کی تو ایسی مظلومی کی حالت ہے کہ اگر وہ مسلمان بھی نہ ہوتے تب بھی ان کی مدد واجب تھی کیونکہ ہم دنیا میں خدا تعالیٰ کے نمائندے اور مظہر ہیں ۔ اور جس طرح خدا تعالی کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اسی طرح ہمارا احسان بھی عام ہونا چاہئے۔ اس لئے میں پھر تحریک کرتا ہوں کہ رمضان المبارک کے آخری ایام کی مبارک دعاؤں اور صدقوں میں ان مظلومین کو نہ بھولو۔ اور چونکہ رسول کریم مسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین عبادت وہی ہے جس پر مداومت اختیار کی جائے ۔ اس لئے آئندہ بھی جب تک یہ کام ختم نہ ہو اس سلسلہ کو جاری رکھو۔ میں نے اندازہ