خطبات محمود (جلد 13) — Page 335
خطبات ۳۳۵ سال ۱۹۳۲ء کرلے تو وہی ابتلاء اور مصیبت اس کے لئے ترقی درجات کا موجب ہو سکتی ہے۔ اس وقت ایک قوم ہے جو خصوصیت کے ساتھ ان دنوں میں دنیا کے سامنے آرہی ہے اور میں خواب کی بناء پر اس کے متعلق جماعت کو تحریک کرتا ہوں۔ میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ۔ صرف یہ کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اسے اٹھائے ۔ تمام انسان اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ کسی خاص قوم کو ہمیشہ کے لئے وہ ذلت میں پڑا رہنے دے ۔ بلکہ ایک قوم اگر خود گرتی ہے اور اٹھنا نہیں چاہتی تو بھی ایک وقت خدا تعالیٰ کا فضل ضرور اسے آکر اٹھاتا ہے۔ ایک وقت تک تو صرف انہی قوموں کو اٹھاتا ہے جو خود ترقی کرنا چاہتی ہیں مگر یہ رحیمیت کی صفت کے ماتحت ہوتا ہے۔ اور کبھی رحمانیت کا دور آتا ہے اس وقت ایسی اقوام کو بھی جو اپنی ذلت پر رضا مند ہو چکی ہوتی ہیں خدا تعالی ابھارتا ہے۔ پہلے چوہڑے چمار سانسی وغیرہ اقوام کے لوگوں کو نصیحت کی جاتی اور ترقی کرنے کی طرف توجہ دلائی جاتی تھی تو وہ کہتے تھے کہ ہمیں خدا نے ایسا ہی بنایا ہے ۔ لیکن اب اللہ تعالی نے انکی طرف بھی توجہ کی ہے اور زیادہ دن نہیں گزریں گے کہ خدا تعالٰی کا ہاتھ انہیں اٹھائے گا اور وہ اس قدر آگے بڑھیں گے کہ ممکن ہے غرور میں آکر دوسروں کو بھی دبانے کی کوشش شروع کر دیں۔ اس طرح اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کشمیری قوم کو بھی اٹھانا چاہتا ہے ۔ یہ انسانی کام معلوم نہیں ہو تا بلکہ خدا تعالیٰ کا ہی یہ منشاء معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم کو ترقی دے۔ اس وقت میں ان دنیوی ذرائع اور سامانوں کا ذکر نہیں کروں گا جو اللہ تعالی نے کشمیریوں کو ترقی دینے اور بڑھانے کے لئے مہیا کر دیتے ہیں بلکہ جماعت کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض روحانی امور بیان کرتا ہوں۔ : مسئلہ کشمیر کے متعلق کئی لوگوں کو ایسی رویا دکھائی گئی ہیں؟ ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں کچھ کرنا چاہتا ہے۔ میں نے خود بھی خواب دیکھا ہے کہ ایک مجلس ہے جس میں بہت سے معززین جمع ہیں۔ میں ان کے سامنے کشمیر کے حالات بیان کر رہا ہوں اور کہتا ہوں کہ حالات امید افزا ہیں اور درمیانی روکیں کوئی ایسی روکیں نہیں اور انہیں تحریک کرتا ہوں کہ آپ لوگ رقم خرچ کریں تو آسانی سے یہ کام ہو سکتا ہے۔ پھر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس تحریک کے ساتھ ہی ان لوگوں میں حرکت شروع ہوئی اور حاضرین ایک دوسرے کے کان میں باتیں کرنے لگے۔ اس کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ایک کاغذ پھر ایا جانے لگا۔ گویا وہ چندہ کرنے لگے ہیں۔ میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی ہے کہ بعض اوقات جو مایوسی کی گھڑیاں آتی ہیں وہ حقیقی نہیں بلکہ اگر کچھ را