خطبات محمود (جلد 13) — Page 331
120 خطبات محمود سال ۱۹۳۲ کر دیتے ہیں جن سے سوتوں میں بیداری پیدا ہو سکے اور وہ سمجھیں کہ اگر سارا سال نہیں تو اس مہینہ میں ہی روحانی فائدہ اٹھا لیں۔آج کل چھوٹے چھوٹے بچے بھی روزہ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں جن پر روزے فرض نہیں بلکہ وہ بچے بھی جو نماز تو شاید سال میں ایک دو دفعہ ہی پڑھتے ہیں مگر روزہ رکھنے کے لئے بہت بیتاب ہوتے ہیں۔اگر چہ یہ اس لحاظ سے تو مفید ہو سکتا ہے کہ بچوں کو بھوک برداشت کرنے کی عادت ہوتی ہے لیکن روزے اس لئے نہیں آئے کہ انسان بھوکا رکھا جائے بلکہ اس لئے ہیں کہ نفس پر قابو پانے کی عادت ڈالی جائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف انسان کو متوجہ کرنے کے لئے آئے ہیں لیکن جو سحری کو کھانا کھا کر پھر سو جاتا ہے اس کا کیا روزہ ہے۔میں نے دیکھا ہے عورتوں میں یہ مرض عام ہے کہ روزہ میں وہ عبادت کم کرتی اور کھانے پینے کی طرف زیادہ توجہ کرتی ہیں۔بے شک عورت کے فرائض میں یہ بات داخل ہے کہ وہ گھر میں کھانے کا سامان کرے اور جہاں نوکر وغیرہ نہ ہو خود کھانا تیار کرے لیکن ان دنوں میں ایسا انتظام کرنا چاہئے کہ زیادہ وقت سحری تیار کرنے میں صرف نہ ہو بلکہ نماز پڑھنے میں لگے۔اور مردوں کو بھی چاہئے کہ اپنے کھانے یا کھانے کو زیادہ با لذت بنانے کے لئے عورتوں کو اس نعمت سے محروم نہ رکھیں۔ممکن ہے بعض عورتیں چاہتی ہوں کہ اس وقت عبادت کریں لیکن مرد ان سے ایسا سلوک کرتے ہوں کہ وہ ڈر کے مارے کھانا پکانے یا اسے زیادہ بالذت بنانے میں وقت صرف کرنے پر مجبور ہوں۔آج کل تو سردی کا موسم ہے۔رات کا پکایا ہوا کھانا بھی سحری کے وقت استعمال کیا جا سکتا ہے۔صرف روٹی پکانے کی ضرورت رہتی ہے۔اگر چہ اب تو یورپ والوں نے روٹیاں بھی ایسی ایجاد کر دی ہیں جو آٹھ آٹھ دن تک خراب نہیں ہوتیں۔غرضیکہ عورت و مرد سب ان دنوں میں زیادہ عبادت کریں بلکہ جو بیمار یا مسافر ہونے یا کسی اور شرعی عذر کے ماتحت روزہ نہ رکھ سکتے ہوں وہ بھی تہجد پڑھنے کی کوشش کریں اور دعاؤں اور عبادت میں حصہ ہیں۔بلکہ ایسے لوگ اگر اپنے دل میں کڑھتے ہوں کہ روزہ کیوں نہیں رکھ سکتے تو روزہ داروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔رسول کریم میں ایک دفعہ جہاد پر جارہے تھے کہ اپنے ساتھیوں سے فرمایا مدینہ میں بعض لوگ ایسے ہیں جو جہاد کے ثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہیں۔صحابہ نے عرض کیا۔یارسول اللہ یہ کیا بات ہے کہ مشکلات تو ہم اٹھائیں اور ثواب میں وہ بھی شامل ہو جائیں جو اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔آپ نے فرمایا وہ سستی اور کو تاہی کی وجہ سے ہمارے ساتھ آنے