خطبات محمود (جلد 13) — Page 318
خطبات محمود ۳۱۸ سال ۱۹۳۱ء دل بھی کہیں ہوں گے ؟ کم از کم ہیں دفعہ ایک لیمپ ایک جگہ روشن کر جاتا ہے مگر پھر بھی وہاں تاریکی رہتی ہے۔کم از کم بیس مرتبہ ایک قیمتی دعا انکے سامنے آتی ہے اور وہ پھر بھی اس کے فوائد سے نا آشنا ر ہتے ہیں۔کتنے افسوس اور رنج کی بات ہے کہ مسلمان ایسی قیمتی دعا سے غافل ہو گئے اور ایک عیسائی کو کہنا پڑا کہ مسلمانوں نے اس خوبصورت مگر قیمتی دعا سے منہ پھیر لیا۔یہ ایک تازیانہ ہے جو مسلمانوں کے جگانے کے لئے ہے اور گو بظاہر معمولی الفاظ ہیں مگر ان میں بہت بڑی زجر اور توبیخ پائی جاتی ہے۔یہ اس مسلمان کے لئے مرجانے کا مقام ہے جسے سورۃ فاتحہ نظر نہیں آتی مگر ایک عیسائی مصنف کو دکھائی دیتی ہے۔پھر وہ افسوس کرتا ہے کہ وہ چیز جو اتنی خوبصورت ہے اس سے مسلمانوں نے کیونکر غفلت اختیار کرلی۔مگر دوسروں کا گلہ جانے دو انہوں نے تو اور بہت سی باتوں میں بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تم جو اس مامور کی اطاعت کرنے والے ہو جس کے متعلق پہلے انبیاء نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ اس پر سورۃ فاتحہ کے معارف کھولے جائیں گے اور جس کے متعلق بائیل میں لکھا گیا تھا کہ ”میں نے اس کے داہنے ہاتھ میں ایک کتاب دیکھی جو اندر سے اور باہر سے لکھی ہوئی تھی اور اسے سات مہریں لگا کر بند کیا گیا تھا - اس کا چہرہ آفتاب کی مانند تھا اور اس کے پاؤں آگ کے ستونوں کی مانند اور اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی کھلی ہوئی کتاب تھی۔" وہ مامور دنیا میں آیا اور اس نے اس فتوحہ یعنی سورہ فاتحہ کی ایک مہر کو تو ڑا اس کے علوم کو دنیا میں پھیلایا۔تم جو اس مامور کو مانے والے ہو اپنے نفوس میں غور کرو اور سوچو کہ تم نے اس سورۃ فاتحہ سے کیا فائدہ اٹھایا اور اس فتوحہ سے تم نے کتنی فتوحات حاصل کیں۔اگر تم میں سے کسی نے اس کے ذریعہ پہلے کچھ حاصل نہیں کیا تو کم از کم اب توجہ کرو اور اس کے معارف سے آگاہی حاصل کرد - یہ ایک رحمت ہے جو اللہ تعالی نے دی یہ ایک خزانہ ہے جو اس نے بخشا یہ وہ انعام ہے جس سے بہتر دنیا میں نہیں مل سکتا۔نہ زمینوں میں نہ زمین کے خزانوں میں نہ ہی آسمان میں۔یہ خلاصہ ہے تمام قرآن مجید کا اور یہ خلاصہ ہے ان تمام روحانی ترقیات کا جو انسان کو حاصل ہو سکتی ہیں۔پس جس نے پہلے فائدہ حاصل نہیں کیا وہ اب حاصل کرلے۔(الفضل ۳۱- دسمبر ۱۹۳۱ء) الفاتحة 1