خطبات محمود (جلد 13) — Page 317
خطبات محمود ۳۱۷ سال ۱۹۳۱ء کئی لوگ یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ قربانی کر کے ہمارا نقصان ہی ہوا۔ پس وہ کہاں اللہ تعالٰی کے الرَّحِيمِ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ پھر نماز میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ جزاء وسزا کے دن کا مالک ہے۔ مگر ہم میں سے کتنے ہیں جو جزاء و سزا جو خدا تعالیٰ کے اختیار میں سمجھتے ہیں۔ کیا ہزاروں مسلمان ایسے نہیں جو رات دن اپنے محلہ کے لوگوں کو ملِكِ يَوْمِ الدین سمجھتے ہیں یا اپنے بیوی اور بچوں کو ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ سمجھتے ہیں کیونکہ وہ بہت سی نیکیوں سے اس لئے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ کہتے ہیں فلاں کام کرنے سے ہمارے محلہ کے لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں گے ۔ یا ہماری قوم کے لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں گے یا ہمارے خاندان کے لوگ ہم سے ناراض ہو جائیں گے ۔ پھر یہاں تک حالت گر جاتی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے یہ کام کیا تو ہماری بیوی اور بچے ہم سے ناراض ہو جائیں گے۔ جب یہ دائیں اور بائیں بت ہیں ، جب آگے اور پیچھے بہت ہیں تو خدا ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کیونکر رہا اور خدا کی مالکیت کا وقت کون سا ہوا ۔ خدا تو جب مالک ہو گا اکیلا مالک ہو گا۔ اس نے تو کہہ دیا ہے میری تمام صفات توحید پر مبنی ہیں۔ میں تمہاری غلامی کو قبول کرنے کو تیار ہوں بشرطیکہ صرف میری ہی غلامی کرد اور میں تمہاری قربانی بھی قبول کرنے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ تم صرف میرے لئے ہی قربانی کرو۔ میں تمہاری عبادت بھی قبول کرنے کے لئے تیار ہوں بشرطیکہ تم صرف میری ہی اطاعت کرو ۔ خدا یہ پسند نہیں فرماتا کہ اس کی عبادت یا اسکی غلامی یا اس کی مالکیت میں کوئی دوسرا بھی شریک ہو۔ جس وقت کوئی دوسرا حصہ دار بنایا گیا خدا تعالیٰ نور ا ہٹ گیا۔ پھر وہ لوگ جو خدا کے شریک ٹھراتے ہیں اور کہتے ہیں اگر ہم نے دین کی فلاں بات مانی تو ہمارے محلے کے لوگ ناراض ہو جائیں گے یا قوم کے لوگ ناراض ہو جائیں گے یا ہمارا افسر ناراض ہو جائے گا۔ یا ہمارے دوست اور عزیز ناراض ہو جائیں گے وہ اپنے عمل سے اپنے محلہ داروں کو اپنی قوم کے لوگوں کو اپنے افسروں کو اپنے دوستوں اور عزیزوں کو خدا کا شریک ٹھراتے ہیں۔ مگر تعجب ہے باوجود اس کے وہ منہ ہاتھ دھو کر نماز کے لئے کھڑے ہوتے اور بڑے مزے سے خدا کو کہتے ہیں ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ - اس عبادت کا کیا فائدہ اور روزانہ کم از کم میں مرتبہ اس جھوٹے اقرار کا کیا مطلب؟ اس سے زیادہ دکھ کا موجب اور کیا ہو گا کہ ایک مسیحی مصنف تو سورۃ فاتحہ پر نظر دوڑاتا ہے اور بے اختیار یہ تعریف کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ یہ چھوٹی مگر نہایت ہی خوبصورت اور قیمتی دعا ہے۔ پھر جب مسلمانوں کے دلوں پر نگاہ ڈالتا ہے تو ڈر کر پیچھے ہٹتا ہے اور کہتا ہے کہ اتنے تاریک