خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 316

خطبات محمود ۳۱۶ سال ۱۹۳۱ء ش ہیں یا ان میں سے اکثر حصہ ایسا ہے جو عام انسانوں کی نظر سے پوشیدہ رہا ہے اور وہ جو زبان سے الْحَمْدُ لِلهِ کہ رہے ہوتے ہیں وہ اس وقت تو نہیں مگر آگے پیچھے یہی کہتے سنائی دیں گے کہ ہم سے تو خدا نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔ پھر جب کوئی نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے الرحمن یہ تمام چیزیں جو مجھے ملی ہیں بغیر میری محنت اور کوشش کے ملی ہیں مگر کتنے ہم میں سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انہیں بغیر محنت اور کاوش کے محض اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی صفت رحمانیت کے ماتحت ملی ہیں۔ وہ نماز میں تو کہتے ہیں کہ الرحمن خدا نے بغیر ہماری محنت اور کوشش کے ہمیں یہ نعمتیں دیں لیکن جب خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنے کا سوال آتا ہے تو اس وقت یہ عذر ہو عذر ہوتا ہے کہ ہم نے یہ اپنی محنت سے کمایا۔ پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ جسے ہم نے اپنی محنت سے کمایا جس کے حصول کے لئے رات اور دن ایک کر دیا وہ اب دے دیں۔ کیا یہ لطیفہ نہیں کہ نماز میں تو روزانہ کم از کم و روزانہ کم از کم بیس مرتبہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے ! کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں بغیر میری محنت کے دیں لیکن جس وقت ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مال قربان کرنے کا سوال آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کماؤں میں اور کھا ئیں دوسرے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ کو رحمن کہنے کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ بغیر محنت کے دیتا ہے۔ پس جب وہ بغیر محنت کے دیتا ہے تو وہ مال انسان کی کمائی نہیں کہلا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کا احسان ہے۔ پھر انسان نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے الرَّحِیمِ خدا وہ ہے جو انسانی محنتوں کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے مگر کتنے ہیں جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے ہوں اور وہ یہ یقین رکھتے ہوں کہ ہم اگر قربانی کریں گے تو خدا چونکہ رحیم ہے اس لئے ہمیں بھی وہ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا اور ہماری قربانی ضائع نہیں ہوگی۔ دنیا میں ایسے لوگ کتنے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہوں کہ خدا کے راستہ میں ایک آنہ دے کر ہمیں اٹھتی واپس ملے گی۔ وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ رحیم ہے وہ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راستہ میں اس کی رضاء اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مال دیتے ہیں انہیں اس کے معاوضہ میں اللہ تعالیٰ بہت بڑے انعامات دیتا ہے اور اتنے بڑے درجات دیتا ہے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے مگر کتنے ہیں جو قربانی کرتے وقت اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہیں اور فی الواقع اللہ تعالی کو ایسا ہی سمجھ کر جان و مال قربان کر دینا آسان سمجھتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ جوش سے قربانی بھی کرتے ہیں مگر چار دن کے بعد ان میں سے