خطبات محمود (جلد 13) — Page 316
خطبات محمود ۳۱۶ سال ۱۹۳۱ء ہیں یا ان میں سے اکثر حصہ ایسا ہے جو عام انسانوں کی نظر سے پوشیدہ ر ما ہے اور وہ جو زبان سے الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ رہے ہوتے ہیں وہ اس وقت تو نہیں مگر آگے پیچھے یہی کہتے سنائی دیں گے کہ ہم سے تو خدا نے کوئی اچھا سلوک نہیں کیا۔پھر جب کوئی نماز میں کھڑا ہو تا ہے اور کہتا ہے الر حمن یہ تمام چیزیں جو مجھے ملی ہیں بغیر میری محنت اور کوشش کے ملی ہیں مگر کتنے ہم میں سے یقین رکھتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انہیں بغیر محنت اور کاوش کے محض اللہ تعالٰی کے فضل اور اس کی صفت رحمانیت کے ماتحت ملی ہیں۔وہ نماز میں تو کہتے ہیں کہ الرحمن خدا نے بغیر ہماری محنت اور کوشش کے ہمیں یہ نعمتیں دیں لیکن جب خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنے کا سوال آتا ہے تو اس وقت یہ عذر ہوتا ہے کہ ہم نے یہ اپنی محنت سے کمایا۔پھر کس طرح ہو سکتا ہے کہ جسے ہم نے اپنی محنت سے کمایا جس کے حصول کے لئے رات اور دن ایک کر دیا وہ اب دے دیں۔کیا یہ لطیفہ نہیں کہ نماز میں تو روزانہ کم از کم بیس مرتبہ ایک شخص یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے تمام چیزیں بغیر میری محنت کے دیں لیکن جس وقت ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں مال قربان کرنے کا سوال آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کماؤں میں اور کھا ئیں دو سرے۔حالانکہ خدا تعالٰی کو رحمن کہنے کے معنے ہی یہ ہیں کہ وہ بغیر محنت کے دیتا ہے۔پس جب وہ بغیر محنت کے نماز میں کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے الرحیم خداوہ ہے جو انسانی محنتوں کا اعلیٰ سے اعلیٰ بدلہ دیتا ہے مگر کتنے ہیں جو خد اتعالٰی کی راہ میں قربانی کرنے کے لئے تیار رہتے ہوں اور وہ یہ یقین رکھتے ہوں کہ ہم اگر قربانی کریں گے تو خدا چونکہ رحیم ہے اس لئے ہمیں بھی وہ بہتر سے بہتر بدلہ دے گا اور ہماری قربانی ضائع نہیں ہوگی۔دنیا میں ایسے لوگ کتنے ہیں جو یہ یقین رکھتے ہوں کہ خدا کے راستہ میں ایک آنہ دے کر ہمیں اٹھتی واپس ملے گی۔وہ منہ سے تو کہتے ہیں کہ خدا تعالی رحیم ہے وہ زبان سے تو اقرار کرتے ہیں کہ جو لوگ اللہ تعالٰی کی راستہ میں اس کی رضاء اور خوشنودی حاصل کرنے کے لئے مال دیتے ہیں انہیں اس کے معاوضہ میں اللہ تعالٰی بہت بڑے انعامات دیتا ہے اور اتنے بڑے درجات دیتا ہے جو انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے مگر کتنے ہیں جو قربانی کرتے وقت اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہیں اور فی الواقع اللہ تعالی کو ایسا ہی سمجھ کر جان ومال قربان کر دینا آسان سمجھتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ جوش سے قربانی بھی کرتے ہیں مگر چار دن کے بعد ان میں سے دیتا ہے تو ان کی کمائی نہیں کہلا سکتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور اس کا احسان ہے۔پھر انسان