خطبات محمود (جلد 13) — Page 311
خطبات محمود ۳۱۱ سال ۱۹۳۱ء کر شوق پیدا ہوتا ہے اس طرح اس کی طرف شوق پیدا نہ ہو یقینا اللہ تعالیٰ کا یہ منشاء نہیں تھا اور رسول کریم ملی کا بھی یہ منشاء نہ تھا بلکہ خدا تعالی یہ چاہتا تھا کہ میں اس دعا کے ذریعے اپنی نماز کا ایک حصہ بندوں کو دیدوں۔ پس نماز کیا ہے ؟ اظہار عبودیت کا نام ہے نماز اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی تحمید بیان کرنے کا نام ہے لیکن باوجود اس کے کہ نماز اظہار عبودیت اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرنے کا نام ہے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اس نماز کا ایک حصہ ہمیں دے دیا اور ایک حصہ اپنے لئے رکھا۔ ہمیں ایک حصہ اس لئے دیا تاہم اس میں اپنے اخلاق پر نگاہ دوڑائیں اپنے فرائض پر غور کریں اور اللہ تعالٰی کے حضور اپنی درخواستیں اور ضرورتیں پیش کر کے اس کے نتیجہ میں مختلف قسم کی مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچ سکیں۔ جس وقت ہم اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے ہیں اس وقت سے لے کر سلام پھیرنے تک تمام وقت ہم نے اللہ تعالیٰ کو دیا ہوا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے نہایت شفقت اور محبت سے کام لے کر اس نماز کا ایک حصہ اور معتد بہ حصہ اپنے بندوں کے لئے وقف کر دیا اور فرمایا کہ گو یہ وقت ہے تو میرے ہی لئے مگر میں اس کا ایک بہت بڑا حصہ اپنے بندوں کے لئے وقف کر دیتا ہوں وہ بندہ جو سارا دن دنیا کے کاموں میں لگا رہتا ہے کوئی اپنی ملازمت کر رہا ہوتا ہے اور کوئی تجارت کوئی زراعت کا کام کر رہا ہوتا ہے اور کوئی دوسرا کام وہ اپنا وقت اور تھوڑا سا وقت لیکر اللہ تعالی کے حضور آیا اس لئے کہ تارہ تھوڑے سے وقت میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرے۔ اللہ تعالی نے اپنے بندہ کی اس قربانی کو دیکھا اور اسے قبول فرمایا۔ مگر ساتھ ہی کہا کہ ہم اس تھوڑے سے وقت کا بھی ایک حصہ تمہیں دے دیتے ہیں۔ پس اللہ تعالی نے اس وقتی قربانی کا بھی ایک بڑا حصہ اپنے بندوں کو واپس کر دیا کیونکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ہے تو اس وقت ہم خدا تعالیٰ کی تسبیح و تحمید نہیں کرتے بلکہ اپنی بھلائی اور بہتری کی دعائیں کر رہے ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے کہ اللہ تعالی نے اپنی رحمت اور فضل سے یہ دعا مسلمانوں کو ان کی روحانی ترقیات کے لئے سکھائی واقعہ میں مسلمان اس دعا سے اس قدر غافل ہیں کہ اگر آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نہ آتے اور آج آپ کے ذریعہ اس کے معارف دنیا پر نہ کھولے جاتے تو شاید یہ سورۃ سب سے کم درجہ کی سمجھی جاتی میں اس عیسائی مصنف کی اس سمجھ اور عقل پر عش عش کر اٹھتا ہوں کہ اس نے باوجود عیسائی ہونے کے باوجود