خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 304 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 304

خطبات محمود ۳۰۴ 36 مهمان نوازی کے متعلق ضروری ہدایات (فرموده ۱۸- دسمبر ۱۹۳۱ء) سال ۱۹۳۱ء تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔میں نے پچھلے جمعہ قادیان کے تمام دوستوں کو جلسہ سالانہ کے متعلق اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے خطبہ پڑھا تھا اور بیرون جات کے احباب کو بھی باوجو د مشکلات کے قادیان آنے اور ساتھ اپنے دوستوں کو لانے کی نصیحت کی تھی۔میں پچھلی دفعہ خصوصیت کے ساتھ قادیان کی مستورات کو اس امر کی طرف توجہ دلانا بھول گیا تھا کہ اب چونکہ ہمارے جلسہ سالانہ کے موقع پر کثرت کے ساتھ باہر سے عورتیں بھی آیا کرتی ہیں اور ان کی مہمان نوازی کا بوجھ یہاں کی عورتوں پر ہی ہوتا ہے اس لئے میری ان نصائح کو جو میں نے گذشتہ جمعہ مردوں کو کی تھیں عورتیں بھی اپنے متعلق سمجھ لیں۔ہندوستان کی عورتیں بالعموم باقی دنیا کی نگاہوں میں نہایت ہی ذلیل اور حقیر سمجھی جاتی ہیں اس واسطے کہ لوگ خیال کرتے ہیں وہ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں اور اس واسطے کہ لوگ خیال کرتے ہیں وہ عمل میں بہت پیچھے ہیں یہ داغ کچھ ان کے ماتھے پر ایسا لگا ہے کہ باوجود گذشتہ پچاس سالہ جد و جہد کے وہ اب تک اس الزام سے بری نہیں ہو ئیں۔میں نہیں کہہ سکتا عورتیں اس معاملہ میں کس حد تک ذمہ دار ہیں اس لئے کہ عورتوں کی ذمہ داری دو مختلف نقطہ ہائے نگاہ سے بالکل مختلف ہو جاتی ہے۔اگر ہم اس امر کو تسلیم کریں کہ مرد عورت ہر امر میں مساوی ہیں تو یہ ذمہ داری عورتوں پر زیادہ ہو جاتی ہے اور یہ گذر عورتوں کا باقی نہیں رہ جاتا کہ مردوں نے ہمیں تعلیم نہیں دی مردوں نے ہمیں ترقی کرنے نہیں دی کیونکہ جب دونوں مساوی ہیں تو ایک دوسرے کی امداد پر بھروسہ کر کے اگر ترقی کے میدان میں پیچھے رہ جاتا ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔اس