خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 19

خطبات محمود ۱۹ سال ۱۹۳۱ء دو تک وہ اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتا جس کے لئے اس کو پیدا کیا گیا تھا۔ پس حفاظت کا ایک ذریعہ تو نبی کا قرب ہے اور اور دوسرا ذریعہ قرآن کریم نے یہ بیان کیا ہے کہ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ یعنی جو لوگ بدی کے سامانوں کو تباہ کر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی عذاب سے بچائے جاتے ہیں۔ استغفار کے معنے ڈھانپ دینے کے ہیں بدی کا بیج دنیا سے بالکل تو مٹایا نہیں جاسکتا کیونکہ جس طرح فرشتے دنیا میں نیکی کو قائم کرتے ہیں شیطان بدی کو قائم کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور جب تک انسان کو یہ اختیار ہے کہ بدی اور نیکی میں سے جو راستہ چاہے اختیار کرلے کوئی نہ کوئی ضرور شیطان کے ساتھ شامل ہوتا رہے گا مگر مومن کا کام یہ ہے کہ وہ بدی کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے جس طرح گندگی کو بالکل تو نابود نہیں کیا جا سکتا لیکن گڑھا کھود کر اس میں ڈال کر اوپر سے مٹی ڈالی جاسکتی ہے اس طرح اس کی عفونت سے انسان بیچ سکتا ہے۔ اسی طرح ہم بدی کو دنیا سے بالکل مٹاتو نہیں سکتے۔ مگر اسے دبا سکتے ہیں۔ پس دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ بدی کو دبایا جائے اور اسے پھیلنے سے روکا جائے۔ اس کا طریق یہی ہے کہ ان لوگوں کو جو بدی پھیلانے والے ہیں اپنے اندر شامل کر لیا جائے اور اس طرح ان کے بد ارادوں کو دور کر دیا جائے پس يَسْتَغْفِرُونَ سے ون سے مراد یہاں تبلیغ ہی ہے اور تباہی سے بچنے کے یہی دونوں طریق ہیں۔ ایک نبی کا قرب اور اس کی جماعت میں شمولیت یا یہ کہ کوشش کر کے بدی کو دبا دیا جائے اور جہاں یہ دونوں باتیں جمع ہوں وہ تو نور علی نور ہے۔ بے شک تباہی پھیلانے والی چیزوں کو اللہ کی مدد سے ہی دہایا جا سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی مدد بھی انسانی اعمال سے وابستہ ہے۔ اگر کوئی شخص آگ میں ہاتھ ڈال کر منہ سے استغفار کرتا رہے تو اس کا ہاتھ جلنے سے بچ نہیں سکتا۔ آگ سے بچنے کا یہی طریق ہے کہ اس میں ہاتھ بھی نہ ڈالا جائے اور استغفار بھی کیا جائے۔ جو شخص آگ میں ہاتھ تو نہیں ڈالتا مگر استغفار بھی نہیں کرتا وہ بھی خطرہ میں ہے کیونکہ کوئی انسان محض اپنی کوشش اور سعی کے ذریعہ مصائب اور مشکلات سے نہیں بچ سکتا۔ دنیا میں جس قدر بیماریوں میں لوگ مبتلاء ہوتے ہیں کیا ان میں انسان اپنی مرضی سے مبتلاء ہوتا ہے اور ان ران کے جرمز Germs اپنے جسم میں خود داخل کرتا ہے ۔ مثلاً ٹائیفائڈ کا کیڑا ہوتا ہے جس کے جسم میں داخل ہو اسے تپ محرقہ ہو جاتا ہے یا بعض عوارض کی وجہ سے ایسے جرمز Germs پیدا ہو جاتے ہیں جن سے نمونیہ ہو جاتا ہے۔ کیا کوئی شخص ایسا ہوتا ہے جو کوشش کر کے ان بیماریوں کے کیڑے اپنے جسم میں داخل کر لیتا ہے۔ ہر گز نہیں۔ بلکہ ہر ایک کی کوشش میں ہوتی ہے کہ جرمز Germs داخل نہ ہوں مگر انسان کی رہے۔