خطبات محمود (جلد 13) — Page 232
خطبات محمود ۲۳۲ سال ۱۹۳۱ء خود ذاتی طور پر واقف ہوں یا میرے ایسے واقف جن پر میں اعتبار کر سکوں وہ ان کے واقف ہوں اور پھر تقویٰ اور طہارت رکھنے والے بھی ہوں اور پھر اس بات کا بھی لحاظ رکھنا پڑے گا کہ اگر ایک جماعت کی طرف سے ہزار آدمی پیش ہوئے اور ان میں سے سٹو مخلص ہیں۔ مگر ایک دو سری جماعت کی طرف سے ایک آدمی پیش ہوا تو ہم اس لئے کہ دوسری جماعت بھی مباہلہ میں حصہ لینے سے محروم نہ رہے اس ایک آدمی کو لے لیں گے اور نٹو میں سے ایک مخلص کو ہٹا دیں گے تا سب جاعتیں اس سے حصہ لے سکیں۔ جبکہ ہماری جماعت نے اس مباہلہ کو دعوت سمجھا ہے تو دعوت میں سب جماعتوں کا ہمیں لحاظ رکھنا پڑے گا اور اگر مباہلہ ہو جائے تو مومن کے لئے واقعی یہ ایک دعوت ہی ہے اور اس پر مومن کو خاص فخر ہو سکتا ہے ۔ حدیثوں میں جہاں تَعَالَوْا نَدْعُ ابْنَاءَ نَا وَابْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَ كُمْ وَانْفُسَنَا وَانْفُسَكُمْ کے ماتحت رسول کریم سلم کی مباہلہ پر آمادگی کا ذکر آتا ہے وہاں چونکہ عام طور پر ایسی روایتوں کے راوی شیعہ ہیں۔ یا ایسے ہیں جو شیعیت کی طرف مائل تھے اس لئے وہ کہتے ہیں رسول کریم یہ مباہلہ میں اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر نکلے تھے کیونکہ وہ خوب سمجھتے تھے کہ ایسے موقع پر مومنوں پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت برستی ہے۔ اس وقت جبکہ مومن لعنت مانگ رہا ہوتا ہے دراصل اپنے لئے اللہ تعالی سے رحمت طلب کر رہا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ میری رحمت ہر ہر چیز پر وسیع ہے حتی کہ میرے غضب پر بھی حاوی ہے۔ پر بھی حاوی ہے۔ تو اگر مخالفوں پر دس لاکھ خدا کی طرف سے لعنتیں اتریں تو کس طرح ممکن ہے کہ مومنوں پر دس لاکھ رحمتیں نہ اتریں۔ بلکہ اگر وہاں دس لاکھ لعنتیں اتریں گی تو مومنوں پر ان سے کئی لاکھ زیادہ رحمتیں بھی اتریں گی کیونکہ اس کی رحمت اس کے غضب پر پر حاوی ہے ۔ وی د پس مباہلہ سچے انسان کے لئے بڑی بھاری روحانی دعوت ہے اور جب یہ دعوت ہے تو کیونکر ہو سکتا ہے کہ اس دعوت سے بعض جماعتوں کو محروم رکھا جائے۔ اس وجہ سے ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک جماعت کے اگر پندرہ میں مخلص احمدی ہوں مگر دوسری جگہ کے صرف چند معمولی احمدی ہوں تو چند کی خاطر بعض مخلصین کو چھوڑ دیا جائے تا ساری جماعتیں اس میں حصہ لے سکیں۔ غرض یہ انتخاب مختلف حالات کو دیکھ کر ہو گا لوگوں کو گھبرانا نہیں چاہتے بالکل ممکن ہے ان کو لے لیا جائے اور بعض پرانے انے صحابیوں کو چھوڑ دیا جائے ۔ اگر چہ بعضوں نے لکھا ہے کہ مباہلہ یا ہے کہ مباہلہ میں صرف پرانے لوگوں اور صحابیوں کو لے لیا جائے مگر یہ ئے مگر یہ ٹھیک نہیں۔ اس کے مقابل پر نئے لوگوں نے لکھا