خطبات محمود (جلد 13) — Page 204
خطبات محمود 22 سال ۱۹۳۱ء اپنی دوستیاں خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ اصول کے ماتحت رکھو فرموده ۲۶- جون ۱۹۳۱ء) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- d رسول کریم میں اللہ فرماتے ہیں قیامت کے دن چند قسم کے آدمیوں پر اللہ تعالیٰ کا سایہ ہو گا اور ان آدمیوں میں سے ایک وہ دو شخص ہوں گے جو اللہ تعالی کے لئے آپس میں محبت کرتے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی لئے ان لوگوں کو جو ابتدائی زمانہ میں بیعت کرتے تھے جب فی اللہ لکھا کرتے تھے۔اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہو تا تھا کہ آپ نے اللہ تعالٰی کے لئے مجھ سے تعلق پیدا کیا ہے اور قیامت کے روز آپ اللہ تعالی کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔لیکن جہاں دوستی اور محبت ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ کے سایہ کا مستحق بنا دیتی ہے وہاں میں دیکھتا ہوں یہی بعض اوقات تباہی اور بربادی کا موجب بھی ہو جایا کرتی ہے۔میرا روز مرہ کا مشاہدہ ہے اور قریباً ہر روز کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ میرے سامنے آجاتا ہے کہ ایک شخص اچھا نیک دیندار و مخلص ہوتا ہے مگر ابھی ایسے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا ہو تاکہ اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت میں ہو۔وہ اپنی ذات میں خوبیاں رکھتا ہے مگر کسی دوست یا رشتہ دار کی وجہ سے ٹھو کر کھا کر کہیں کا کہیں جا نکلتا ہے۔اس کے اندر اپنی ذات میں تباہی کے سامان نہ تھے مگر اس کے دوست نے اسے تباہ کر دیا۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ ایسی دوستی کسی مصرف کی ہو سکتی ہے جو کسی کو بچانا تو الگ رہا خود کو بھی تباہ کر دے۔دوستی کے معنی یہ ہیں کہ ایک انسان دوسرے دوست کے کام آئے لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اس کی عارضی تکلیف کو دائمی تکلیف پر مقدم کر دیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص کا ریچھ سے دوستانہ