خطبات محمود (جلد 13) — Page 201
خطبات محمود ۲۰۱ سال ۱۹۳۱ء گاندھی جی ہوں یا کوئی اور رسول کریم کے مقابلہ میں ہمیں ان کی کوئی پروا نہیں ہو سکتی۔ دیکھو شراب کے استعمال کو روکنے کے لئے کانگرسیوں کو کس طرح پیکٹنگ کرنا پڑا۔ کیا محمد سلیم نے بھی کبھی اس طرح کیا تھا۔ مگر یہاں کیا ہوتا ہے ۔ ماریں کھائی جاتی ہیں۔ عورتیں نکلتی ہیں ان پر الزام لگتے ہیں۔ مگر شراب پینے والے برابر شراب پئے جاتے ہیں۔ ادھر آنحضرت میر صرف ایک حکم دیتے ہیں اور شراب کا پینا کلیتہ بند ہو- بند ہو جاتا ہے۔ آنحضرت میں علم کے زمانہ میں جس قدر شراب پی جاتی تھی وہ کسی سے مخفی نہیں ۔ لوگ شراب پیتے اور اس پر علانیہ فخر کرتے ۔ دن رات میں وہ آٹھ آٹھ دفعہ پیتے اور بد مست رہتے ۔ اس حالت میں ایک دن مجلس میں شراب پی جا رہی تھی لوگ بد مست ہو رہے تھے۔ بعض بکواس کر رہے اور کہہ رہے تھے اور لاؤ اور لاؤ ایسے وقت میں گلی میں سے ایک شخص کی آواز آتی ہے کہ آج محمد سلیم نے فرمایا ہے کہ شراب پینا حرام ہے۔ یہ سن کر وہ بد مست لوگ شراب پینا بند کر دیتے ہیں۔ ایک کہتا ہے جلدی دروازہ کھولو اور پوچھو یہ کیا کہہ رہا ہے۔ دوسرا اٹھتا ہے اور لٹھ اٹھا کر شراب کے مشکوں پر مارتا ہے اور انہیں چور چور کر کے کہتا ہے پہلے ان کا فیصلہ کر لیں تو پھر پوچھیں گے کہ کہنے والا کیا کہتا ہے۔ شراب بہہ جاتی ہے اور پھر وہ دروازہ کھولتا ہے اور پوچھتا ہے رسول کریم میں ہم نے کیا حکم دیا ہے ۔ جب کہا جاتا ہے رسول کریم میہ نے شراب کی بندش کا حکم دیا ہے تو کہتے ہیں ہم نے پہلے ہی مٹکے تو ڑ دیئے ہیں اور اب کوئی شراب کے قریب بھی نہ جائے گا۔ گویا رسول کریم مہم کا حکم سن کر معاان بد مستوں کا نشہ کا نور ہو جاتا ہے اور ایک ہی آواز کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ اپنے مشکوں کو توڑ دیتے اور شراب مدینہ کی گلیوں میں بہا دیتے ہیں اور اس قدر شراب بہتی ہے کہ لکھا ہے مدینہ کی گلیوں میں اس دن یوں شراب بھی جس طرح موسلا دھار مینہ کا پانی گلیوں میں بہتا ہے۔ یہ وہ نمونہ ہے جو آنحضرت میں یہ کی قوت قدسیہ کا ہے۔ اس کے مقابل میں گاندھی جی کا نمونہ کیا ہے وہ اب تک ملک سے شراب کو نہیں مٹا سکے۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کتنی عظیم الشان قوت قدسیہ کا مالک تھا وہ انسان جسے خدا تعالیٰ نے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا اور جس کے ذریعہ دنیا میں اسلام قائم ہوا۔ مگر عطاء اللہ شاہ مسلمان کہلا کہلا تا ہوا گاندھی جی کی تعریف کرتا ہے اور آنحضرت میر کی ہتک کرتا ہے۔ کیوں ایسے گلے بند نہیں ہو جاتے جن سے ایسی ایسی باتیں نکلتی ہیں اور کہاں ہیں ان کی آنکھیں جو اس عظیم الشان اعجاز کو دیکھیں کہ شراب سے بد مست لوگ ایک جگہ جمع ہیں۔ مناد کی آواز پر ایک دروازہ کھولنے دوڑتا ہے کہ معلوم کرے وہ کیا کہہ رہا ہے۔ مگر دو سرا کہتا ہے کہ