خطبات محمود (جلد 13) — Page 195
خطبات محمود ۱۹۵ سال ۱۹۳۱ء طریق عمل موجود ہے۔ احمدی ہمیشہ حملے کے جواب میں لڑتے ہیں خود کبھی ابتداء نہیں کرتے چنانچہ انہوں نے بھی تسلیم کیا ہے کہ ہم لوگ امن اور سکون سے رہے ، وگرنہ یہ لوگ حملہ کر دیتے۔ اس طرح انہوں نے تسلیم کر لیا کہ اگر ان کی طرف سے چھیڑ خوانی ہوتی تو احمدی بھی جو ابا حملہ کرتے۔ اس سے ثابت ہو گیا کہ وہ لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ احمدی کبھی ابتداء حملہ نہیں کرتے بلکہ جو ابا حملہ کیا کرتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو دوسروں کے حملوں کے جواب میں حملہ کیا کریں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا اگر ان پر اعتراض ہو تو پھر رسول کریم ر پر بھی اعتراض وارد ہو گا۔ کسی نادان نے یہ باتیں اس قوم کے اخبار ملاپ میں شائع کرائی ہیں جو ہمیشہ رسول کریم پر یہ اعتراض کرتی چلی آئی ہے کہ آپ نعوذ باللہ خونخوار تھے اور آپ میں س کی تمام جنگیں ظالمانہ تھیں ۔ اسے شائع کراتے وقت اتنی بھی سمجھ نہ آئی کہ ایسی باتیں میں ایسے اخبار میں شائع کرا کے خود اعتراض کا موقع دے رہا ہوں۔ مگر کچھ بھی ہو اس نے ایسا کیا اور اپنی حماقت کا ثبوت دیا۔ پس اس وقت ایک تو میں نصیحت کرتا ہوں کہ پوری پوری اطاعت کا مادہ پیدا کرو اور دوسرے اللہ تعالیٰ کے احسانات کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ اس نے باوجود ہماری کمزوری کے ایسی نمایاں فتح دی جس کا دشمن کو بھی اقرار کرنا پڑا اگر چہ الفاظ ایسے کھلے نہ ہوں مگر غور کرنے والے کے لئے ان الفاظ سے اس حقیقت کا سمجھنا کچھ بھی مشکل بات نہیں۔ اس کے بعد میں ایک مضمون کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں جو بٹالہ میں غیر احمدیوں کے جلسہ میں ایک شخص نے بیان کیا۔ میں نے سنا ہے سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری نے اپنے جلسہ میں بیان کیا کہ احمدیوں کے مقابل پر ہمیں کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔ سیاسی طور پر مسلمان کانگریس کی مدد کریں۔ احمدی ہمیشہ سے خوشامدی چلے آئے ہیں چنانچہ ان کا پیر بھی خوشامدی ہی تھا۔ جس دن ہمیں حکومت ملی اور میں وزیر اعظم ہو گیا یہ لوگ میرے بوٹ چاٹا کریں گے ۔ اور گاندھی جی کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔ مسلمانوں کو اس کے پیچھے چلنا چاہئے ہیں وہ شخص ہے جس نے ہندوستان کو آزادی دلائی۔ میرزا صاحب نے آکر دنیا کو کونسی آزادی دلائی تھی انہوں نے تو آکر غلام بنا دیا ۔ پھر کہا۔ یہ لوگ جب سوراج مل گیا گاندھی جی کی سرداری تسلیم کریں گے اور اب تو گائے پر لڑتے ہیں پھر گائے کا پیشاب پیا کریں گے ۔ دراصل انبیاء کی جماعتیں غیروں کے لئے بمنزلہ آئینہ ہوتی ہیں سید عطاء اللہ شاہ نے ان الفاظ میں اپنے ہی باطن کا اظہار کیا ہے کیونکہ کانگریس کے وہ تنخواہ دار ملازم ہیں