خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 177

خطبات محمود 166 سال ۱۹۳۱ء غیر احمدی رشتہ داروں کے پاس جائیں اور ان سے کہیں یہ دُوری اور بعد آخر کب تک رہے گا۔ہمارے اندر جو جدائی ہے آؤ ہم خدا کے لئے اسے چھوڑ دیں اور محض اس کی رضاء کے لئے آپس میں اتحاد کر لیں۔اس طریق پر اگر سمجھایا جائے تو خدا کے فضل سے مفید نتائج پیدا ہو سکتے ہیں۔یہ مت سمجھو کہ وہ تمہارے مخالف اور دشمن ہیں اور تمہاری باتیں نہیں سنیں گے۔یاد رکھو دل خدا کے اختیار میں ہیں اگر اخلاص اور سچائی کے ساتھ جاؤ تو خدا کلام میں اثر ڈالے گا اور دوسروں کے دل تمہاری طرف کھنچے چلے آئیں گے۔اس نیت کے ساتھ جاؤ کہ چالیس سالہ جو بلی کی یاد گار قائم کرنی ہے اور اللہ تعالٰی سے دعائیں کرتے جاؤ کہ وہ تمہاری مدد کرے۔اگر اس نیت اور اس ارادہ کے ساتھ جاؤ گے تو یقینا خدا تعالیٰ تمہاری تائید اور نصرت کرے گا۔پھر اس سے اُتر کر یوں تو ہر سال ہی جلسے ہوتے ہیں مگر اس سال ایک تاریخ مقررہ پر جلسے کئے جائیں اور ان جلسوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی ان خدمات پر روشنی ڈالی جائے جو آپ نے اسلام کی اشاعت کے لئے سر انجام دیں اسی طرح اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے آپ کی کوششوں کا ذکر ہو ، آپ کی قربانیوں کا بیان ہو ان احسانات کا ذکر ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تمام دنیا پر اور خصوصیت سے مسلمانوں پر کئے اور اس طرح تمام ہندوستان میں ایک ہی دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قربانیوں احسانات کوششوں اور آپ کی دینی جد وجہد کا ذکر ہو اور سب لوگوں کو آپ کے کام سے واقف کیا جائے۔اس کے متعلق میں انشاء اللہ بعد میں کوئی اعلان کروں گامگر اس پاک تقریب کو ہمیں بغیر کسی خاص خوشی منانے کے نہیں جانے دینا چاہئے۔پھر ایک اور بات ہے جو ہماری جماعت کو مد نظر رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ ترقیات کے ساتھ ساتھ مشکلات اور مصائب بھی پیدا ہوا کرتے ہیں اور بغیر مشکلات اور تکالیف کے دینی یا دنیوی ترقی دینا اللہ تعالی کی سنت کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ جب بھی کسی قوم کے لئے ترقیات کا وقت لاتا ہے اس سے پہلے مشکلات بھی پیدا کر دیا کرتا ہے۔میں نے دیکھا ہے ۱۹۲۴ء میں ہمارے سلسلہ کے لئے ایک نیا دور تھا مگر اس دور سے پہلے ایک لمبے عرصہ تک جو قریباً تین سال تک کا تھا اپنی ذات میں بھی کئی قسم کی بیماریاں مشکلات اور تکالیف آئیں۔اور جماعت بحیثیت مجموعی بھی کئی قسم کی مشکلات میں گرفتار رہی۔اور مجھے رویا میں متواتر بتلایا جاتا رہا کہ یہ تکالیف ترقیات کا پیش خیمہ ہیں اس لئے ان سے گھبرانا نہیں چاہئے۔اس کے بعد میں نے اب دیکھا کہ جب جماعت اپنی روحانی بلوغت کو پہنچنے والی تھی اور ایک نیا دور ہماری جماعت میں شروع ہونے والا تھا تو تین سال پہلے