خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 174

خطبات محمود ۱۶۴ سال ۱۹۳۱ء دعوی کیا۔ اس وقت میں بچہ تھا دو پونے دو سال کی عمر ہو گی ۔ پس اس وقہ ، کے حالات تو میں بتا نہیں سکتا مگر چھ سال کی عمر سے میں سلسلہ کے حالات دیکھتا آرہا ہوں اور آتھم کے وقت سے میں سلسلہ کی حالت جانتا ہوں بلکہ اس سے بھی کچھ بھی کچھ پہلے کے حالات جب میں میری عمر پانچ سال یا ساڑھے پانچ سال کی تھی اس و اس وقت کے مجھے بعض واقعات یاد ہیں ، دشمنوں کی شرارتیں یاد ہیں ، ان کے منصوبے یاد ہیں ان کی وہ کوششیں یاد ہیں جو ہمارے خلاف شب و روز کیا کرتے تھے ۔ اس زمانہ کے تمام واقعات میرے ذہن میں اس وقت تک ایسی صورت میں جمع ہیں جس طرح غبار کے پیچھے سے کوئی چیز نظر آتی ہو ۔ مجھے وہ زمانہ خوب یاد ہے جب ہمیں اپنے گھروں سے نکلنے نہیں دیا جاتا تھا کیونکہ خطرہ تھا کہ دشمن کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچائیں۔ اس زمانہ میں ہمیں گھروں میں یوں بند رکھا جاتا جیسے کہتے ہیں پرانے زمانوں میں بعضوں کو بھورے میں سالہا سال تک رکھا جاتا تھا۔ ہمیں نہایت سختی سے کہا جاتا کہ کہیں سے کھانے پینے کی کوئی چیز نہ لینا مبادا اس میں کسی دشمن کی شرارت ہو ۔ پھر ایک یہ زمانہ آیا کہ ہم دیکھتے ہیں مختلف مقامات میں احمدیت ایسی غالب ہو گئی ہے کہ لوگ اس کے مقابلہ سے عاجز ہیں اور کہتے ہیں اس درخت کا کاٹنا نا ممکن ہے ۔ لیکن باوجود احمدیت کی اس عظیم الشان ترقی کے ایک بات ہے جو ہمیں مد نظر رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ جہاں چالیس سال گزرنے پر بلغ اشدہ ہے کی خوش خبری حاصل ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی یہ بھی سنت ہے کہ ایسے زمانہ میں ابتلاء بھی زیادہ پیدا کیا کرتا ہے ۔ ہمارے سلسلہ کی زندگی کی مثال رسول کریم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگیوں کی سی ہے اور حضرت رسول کریم میں اور حضرت موسیٰ علیہ اسلام اور ان دونوں کی امتوں کو جو ابتلاء پیش آئے وہ کسی سے مخفی نہیں مگر جو ابتلاء آنحضرت ملی کو پیش آئے وہ حضرت مسیح ناصری کو بھی نہیں پیش آئے۔ حضرت مسیح کو بھی تکلیف پہنچی مگر وہ عارضی تکلیف تھی۔ جسے خدا تعالی نے جلدی راحت سے بدل دیا۔ صرف چند گھنٹوں کی تکلیف تھی جو حضرت مسیح ناصری کو پہنچی اس کے بعد خدا تعالیٰ نے انہیں وہاں سے بچا کر ایک نئے ملک میں جگہ دی جہاں ان کو آرام اور آسائش سے رکھا اسی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ مسیحیت کی تکلیف عارضی تھی مگر آنحضرت مسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تکالیف بہت بڑھی ہوئی تھیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ حضرت مسیح کے واقعات صلیب سن کر ہم رفت محسوس کریں۔ مگر وہ روزانہ کی صلیب جو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آنحضرت میم کے سامنے پیش ہوتی وہ ایک دن کی صلیب سے لاکھوں گئے زیادہ تکلیف دہ تھی۔