خطبات محمود (جلد 13) — Page 170
خطبات محمود ۱۷۰ سال ۱۹۳۱ء میری لڑائی میں مارا گیا اور اس پر بھی اظہار افسوس کیا کہ لڑائی کرنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ جس کا اب مجھے پتہ لگا ہے۔ پس جب انہوں نے توبہ کرلی اور اپنی جان دے کر اور خون بہا کر توبہ کی تو یہ کیا ایسے بیسیوں قصور بھی ہوں تو دھل سکتے ہیں۔ پس میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم کیوں ان کی تعریف کرتے ہیں اس لیئے نہیں کہ انہوں نے جاکر ارادہ سے ایک شخص کو مار دیا کیونکہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ ان کا ارادہ بدل گیا تھا۔ اصل واقعہ صرف یہ ہے کہ لڑائی ہوئی اور معلوم نہیں کس کے ہاتھ سے ایک آدمی مارا گیا اور ہمیں افسوس ہے کہ مارا گیا۔ کیونکہ بظاہر اس کا کوئی اتنا قصور معلوم نہیں ہو تا سوائے اس کے کہ اس نے مستریوں کی ضمانت دی ہوئی تھی اور دوستانہ میں یہ ایک معمولی بات ہے۔ پس ہمیں اس کے مارے جانے پر افسوس ہے اور اس کے رشتہ داروں سے ہمدردی ہے۔ لیکن قاضی صاحب نے سلسلہ کی خاطر اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں کی اور سچائی کی خاطر قربان ہو گئے۔ اور کون ہے جو اپنی صداقت شعاری کی تعریف نہ کرے ۔ ان کے سامنے متواتر ایسے مواقع آئے کہ وہ ذرا سا جھوٹ بول کر جان بچا سکتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا تا سلسلہ پر کوئی حرف نہ آسکے ۔ پس کون ہے جو - جو کہے گا کہ ان کے نام کو زندہ نہ رکھنا چاہئے۔ ہمیں ہر احمدی سے توقع رکھنی چاہئے کہ وہ سچائی کے قیام کے لئے جان دینے سے قطعا نہ ڈرے۔ یہ روح ہے جو قاضی صاحب نے اپنے عمل سے ظاہر کی ہے۔ اور ہم ہر جماعت اور ہر گورنمنٹ کے سامنے یہ کہنے سے ذرا بھی شرمندہ نہیں کہ ہم اس روح کو سلام کرتے ہیں اور اسے اپنی جماعت کے لئے نمونہ قرار دیتے ہیں۔ جو اس کے خلاف کہتا ہے وہ جھوٹا ہے یا غلطی تھے خوردہ ہے اور یا منافق ہے۔ مسند احمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۱۵۲ البقرة : ١٩٢ الفضل ۱۸- جولائی ۱۹۳۱ء)