خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 169

خطبات محمود ۱۶۹ سال ۱۹۳۱ء ہمارے آدمیوں کو مار دیا گیا ہے۔ میں نے کہا یہ بیوقوفی ہے کہ بغیر سوچے سمجھے چل پڑے ہو۔ پہلے تحقیقات تو کر لو۔ وہ میرے کہنے سے رک تو گئے مگر کسی نے کہہ دیا کہ ابھی اور بھی کئی ایک کو مار رہے ہیں۔ بس یہ سنتا تھا کہ وہ پھر بھاگ پڑے اور میں نے پھر سختی سے روکا اور ان میں سے ہی ایک کو کہا کہ پہلے تم جاؤ اور جاکر تحقیقات کر آؤ کیا معاملہ ہے ۔ اس وقت میں نے دیکھا کہ لوگ میرے حکم سے کھڑے تو تھے ۔ مگر ان کا برا حال ہو رہا تھا اور تھر تھر کانپ رہے تھے ۔ جب فتنہ پرداز شخص نے دیکھا کہ اب یہ رک گئے ہیں اور ۔ گئے ہیں اور میرا جھوٹ کھل جائے گا تو اس نے کہا کہ ابھی ایک آدمی آیا ہے جس نے بتایا ہے کہ وہاں ہمارے بھائی خاک و خون میں تڑپ رہے ہیں۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پاس ہی گلی میں کھڑا بہکا رہا تھا۔ بس یہ سن کر لوگ بے اختیار ہو کر پھر بھاگ پڑے۔ آخر میں نے کہا کہ تم میں سے جو شخص ایک گز بھی حرکت کرے گا میں اسے جماعت سے خارج کردوں گا۔ چونکہ اس کے مقابلہ میں ان کی کوئی پیش نہ جاسکتی تھی اس لئے وہاں کھڑے تو رہے مگر ان کی جو حالت تھی اس کا مجھ پر آج تک اثر ہے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے ۔ اور جس طرح ایک پتہ کانپتا ہے بعینہ اسی طرح وہ کانپ رہے تھے اور مجنونوں کی طرح واسطے دے رہے تھے کہ ہمیں جانے کی اجازت دی جائے ۔ تو ایسی حالت میں سمجھانا بہت مشکل ہوتا ہے اور ایسی حالت جوش میں اگر کوئی حرکت سرزد ہو جائے تو اس کی ذمہ داری اسی پر ہوتی ہے جو اشتعال دلاتا ہے۔ اور قاضی صاحب مرحوم کے واقعہ کے متعلق خود ہائی کورٹ نے لکھا ہے کہ اس کی ذمہ داری ان لوگوں پر ہے جن کی طرف سے دل آزاری کی گئی۔ ایسے اشتعال کی حالت میں تو انسان کی وہی حالت ہوتی ہے جو حافظ شیرازی نے اپنے ایک شعر میں بیاں کی ہے۔ یعنی بندم کروڑ در میان قعر دریا باز میگوئی که دامن ترکمن هشیار باش یعنی پہلے تو کسی کو دریا میں قید کر دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ دیکھنا گیلا مت ہونا۔ کسی کے دماغی توازن کو پراگندہ کر کے یہ امید رکھنا کہ وہ ہوش سنبھالے رکھے ظالمانہ امید ہے۔ گو مومن سے اس کا خدا پھر بھی یہ امید رکھتا ہے کہ وہ ایسی حالت میں بھی قابو میں رہے لیکن اگر نہ رہ سکے اور پھر تو بہ کرے تو خدا بہت جلد اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے ۔ پھر ایک زائد بات یہ ہے کہ قاضی صاحب نے ارادہ قتل نہیں کیا صرف جوش میں لڑ پڑے اور قتل ایک اتفاقی امر تھا پھر انہوں نے اس فعل پر ندامت کا اظہار کیا اور گورنمنٹ کو جو چٹھی لکھی اس میں بھی لکھا کہ افسوس ایک ناکردہ گناہ