خطبات محمود (جلد 13) — Page 164
خطبات محمود 기 سال ۱۹۳۱ء میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہمارے سلسلہ میں سے کوئی شخص اگر یہ خیال کرے کہ ہمارے خلاف جو کوئی بد گوئی کرے اسے قتل کر دینا چاہئے یا مارنا پیٹنا چاہئے تو میں اس کے قطعی خلاف ہوں کیونکہ ہماری تعلیم اس کی بالکل اجازت نہیں دیتی اور ایسا کرنے والا خواہ ہمارا کتناہی عزیز کیوں نہ ہو ہم ہرگز اس کی تائید نہیں کر سکتے اور اگر یہ واقعہ بھی صرف اس حد تک ہوتا تو گو جو کچھ قاضی صاحب سے سرزد ہوا وہ سلسلہ اور میری ذات کے لئے تھا مگر اس صورت میں غالبا ان کا جنازہ بھی نہ پڑھتا۔ پس جو لوگ اس واقعہ کی اس رنگ میں تعریف کرتے ہیں اگر وہ جاہل اور بے خبر نہیں تو یقینا منافق ہیں۔ جو لوگوں کے اندر یہ خیال پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے عدم تشدد اور امن پسندی کے دعوے جھوٹے ہیں۔ پھر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا مگر اب اس کا ذکر نہیں کرنا چاہتے وہ بھی یا جھوٹے ہیں یا نا واقف - قاضی صاحب نے آخری دم تک اپنے رویہ سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہایت راستباز آدمی تھے اور اگر ان کے بیان کے خلاف پچاس گواہ بھی ہوں تو ہم یہ ماننے پر مجبور ہیں کہ یا تو ان کو غلط فہمی ہوئی ہے اور یادہ جھوٹ بولتے ہیں اس لئے کہ ہم جانتے ہیں قاضی صاحب نے اپنی جان کو خطرے میں ڈالا اور بالآخر اسے قربان کر دیا مگر سچائی کو ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں چھوڑا اور جب کبھی کسی نے ان کو ایسا مشورہ دیا کہ وہ اپنے بیان کو ایسے رنگ میں ڈالیں کہ قانونی طور پر محفوظ ہو جائیں تو انہوں نے سختی کے ساتھ ایسا کرنے سے انکار کر دیا باوجودیکہ کہ قانون دان انہیں مشورہ دیتے تھے کہ ان کی جان بچ سکتی تھی اور الفاظ کے معمولی ہیر پھیر سے وہ پھانسی کی سزا سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے معمولی سا اختلاف بھی پسند نہیں کیا اور تختہ دار پر لٹک جانا گوارا کر لیا۔ بلکہ سچائی کی خاطر ان کے اندر اس قدر غلو تھا کہ انہوں نے بعض ایسی باتیں بیان کر دیں جن کا سچائی کے لئے بھی بیان کرنا ضروری نہ تھا اور انہیں کی وجہ سے وہ گرفتار بلاء ہوئے۔ یعنی انہوں نے کہا کہ میں گھر سے اس لئے چلا تھا کہ ان لوگوں کو سزا دوں مگر بعد میں میرا ارادہ بدل گیا تھا۔ جب یہ ارادہ بدل گیا تھا تو سچائی کی خاطر وہ اسے بیان کرنے پر ہرگز مجبور نہ تھے بلکہ شریعت ایسے موقع پر یہی کہے گی کہ اسے چھپالو کیونکہ خدا نے اس سے بچالیا۔ اور جب پہلی نیت بدل گئی تو اس جگہ سے بیان شروع کرو جہاں سے دیانتداری کے ساتھ تم سمجھتے ہو کہ نیا واقعہ شروع ہوتا ہے۔ اور جو یہاں سے چلتا ہے جبکہ لاری میں بیٹھے ہوئے انہیں جوش دلایا گیا اور وہ لڑ پڑے۔ ایسا راستباز انسان کہتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں میرے ہاتھ سے مقتول قتل ہوا یا کسی دوسرے کے ہاتھ سے۔ پس یہ واقعہ یوں نہیں کہ قاضی صاحب نے --