خطبات محمود (جلد 13) — Page 163
خطبات محمود ۱۶۳ سال ۱۹۳۱ء تازہ رکھنا چاہتے ہیں اور وہ جو اس بارے میں خاموشی کو پسند کرتے ہیں ان دونوں قسم کے لوگوں میں جہان مخلص لوگ ہیں وہاں منافقوں کا عنصر بھی شامل ہے اور کسی ایک فریق کے متعلق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ منافق اسی میں ہیں۔منافق ہوشیار ہوتا ہے اور ہر رنگ میں بات کو ایسی طرح پیش کرتا ہے کہ اعتراض پیدا کرنے کا موجب ہو سکے۔پس ضروری نہیں کہ انہی لوگوں میں ہی منافق ہوں جو اس واقعہ کے متعلق خاموشی کو پسند کرتے ہیں۔اس خیال کے سارے لوگ منافق نہیں ان میں بھی مخلص ہیں اور ان کی غرض اس سے یہ ہے خواہ غلط فہمی کی وجہ سے ہی ہو کہ سلسلہ پر کوئی ایسا حرف نہ آئے جس سے آئندہ کسی اعتراض کا جواب ہم نہ دے سکیں اور اس میں کیا شک ہے کہ سلسلہ کی محبت افراد کی محبت پر غالب ہونی چاہئے ایسے لوگ یقیناً مخلص ہیں۔مگر ان میں ایک منافقوں کا گروہ بھی ہے جس کی غرض یہ بتاتا ہے کہ جماعت میں ایسے افراد بھی ہیں جو ظلم و تعدی کرنے والوں کو پسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اس ارادہ اور نیت کے ساتھ خاموش رہنے کا مشورہ دینے والے منافق ہیں۔پھر وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کو زندہ رکھنا چاہئے اور نوجوانوں اور کارکنوں کے لئے یہ ایک سبق ہونا چاہئے ان میں بھی منافق ہیں اور وہ اس خیال کو ایسے رنگ میں پیش کرتے ہیں جس سے ظاہر ہو کہ ہماری جماعت اصولاً تشدد کو پسند کرتی ہے۔ایسے لوگ قاضی صاحب کی محبت کی آڑ میں لوگوں کے اندر سلسلہ پر اعتراض کا مادہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اور منافق کا طریق یہی ہوتا ہے کہ وہ بات کو ایسے رنگ میں پیش کرتا ہے کہ بظاہر تو بہت اخلاص کا اظہار ہوتا ہے مگر در پر وہ وہ سلسلہ پر اعتراضات کے لئے لوگوں کو تیار کرنا چاہتا ہے جیسا کہ ایک پچھلے خطبہ میں میں بیان کرچکا ہوں کہ لوکل کمیٹی کے صدر کے انتخاب کے بعد ایک شخص نے ایک دکان پر جاکر کہا کہ ہم نے تو اسی کے حق میں رائے دی جس کے متعلق او پر اشارہ ہوا تھا ہم نے تو ان کی منشاء پوری کی۔اب بظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسی بات کہنے والا بہت مخلص ہے مگر دراصل وہ منافق ہے کیونکہ وہ لوگوں میں یہ خیال پیدا کرنا چاہتا ہے کہ گویا میں بھی پارٹیوں میں شامل ہوں اور اشارے کر کے پریذیڈنٹ منتخب کراتا ہوں حالانکہ نہ میں نے کبھی ان باتوں میں دخل دیا نہ دیتا ہوں اور نہ ہی اسے جائز سمجھتا ہوں۔ایسی بات بظاہر تو اخلاص کا پہلو رکھتی ہے مگر ہے دراصل منافقت اور وہ بھی اشد قسم کی ایک منافقت بغیر جھوٹ کے ہوتی ہے مگر یہ ایسی منافقت ہے جو سراسر دروغ پر مبنی ہے۔الغرض دونوں خیال کے لوگوں میں مخلص بھی ہیں اور منافق بھی۔اس لئے دونوں کو ہوشیار رہنا چاہئے۔