خطبات محمود (جلد 13) — Page 10
- خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء فتوئی پوچھنے آئے ہو۔پس غیر مبائعین کے پیچھے نماز کے متعلق فتویٰ پوچھنا بھی ایسا ہی ہے اور لاکھوں جائز باتوں کے کرنے کیلئے تو کوئی فتویٰ نہیں پوچھا جا تا مگر یہ پوچھتے ہیں۔یہ نفس کا دھوکا ہے اور جواز کا فتویٰ نہیں فساد کا فتویٰ پوچھا جاتا ہے۔ایسا فتویٰ پوچھنے والا پہلے میلے کے ڈھیر سے اٹھا کر سڑے ہوئے ٹکڑے کھائے، شاہجم اور گوبھی کے چھلکے کھائے بوسیدہ کپڑے پہنے اور باوجود استطاعت کے ایسے بوسیدہ مکان میں رہے کہ جو معمولی سی بارش سے بھی ٹپکنے لگے جس وقت اس کی خوراک نجس ہوگی ، پوشاک نجس ہوگی اور رہائش کی جگہ نجس ہوگی اس وقت اگر آکر وہ یہ سوال پوچھے گا تو میں کہونگا چونکہ تیرا ہر کام نجس ہے اس واسطے تیرے لئے نجس بھی جائز ہے۔تیرا کھانا پینا اوڑھنا بچھونا، رہنا سہنا سب نجس ہے اس لئے تو بیشک نماز کو بھی نجس کرلے۔لیکن جس شخص میں غیرت ہے اور جو سمجھتا ہے کہ جائز ہی نہیں بلکہ ہر چیز میں طیب بھی دیکھنا چاہئے وہ ہر گز ایسا نہیں کرے گا جو شخص ایسا سوال کرتا ہے اسے سوچنا چاہئے اگر وہ گرے پڑے ٹکڑے اور سبزی کے چھلکے کھانے کا فتویٰ پوچھے گا اور اسے کہا جائے گا ان کا کھانا جائز ہے مگر وہ اس پر عمل نہیں کریگا تو اس مسئلہ میں کیوں فتوے پوچھتا ہے جب تک اس کی نیت خراب نہیں۔وہ دراصل میری زبان کو پکڑنا چاہتا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہئے میں اسے اس کے عمل سے پکڑوں گا۔وہ اگر کے گا کہ تم نے کہا ہے غیر مبائعین کے پیچھے نماز جائز ہے تومیں کہوں گا کیا تم ہر جائز عمل کرتے ہو۔رسول کریم میری نے فرمایا ہے تم میں سے امام وہ ہونا چاہئے جو اتقی ہو۔تم جب یہ پسند کرتے ہو کہ اعلے کھانا کھاؤ۔عمدہ کپڑے پہنو تو نماز کے لئے اعلیٰ امام کیوں نہیں چاہتے۔اعلیٰ سے میری مراد ہر ایک کی حیثیت کے مطابق اعلیٰ ہے زمیندار بھی اپنی حیثیت کے مطابق اعلیٰ کھا سکتے ہیں اور عمدہ پہن سکتے ہیں۔کھدر بھی اعلیٰ قسم کا ہوتا ہے مگر کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ایک زمیندار کے پاس پیسے ہوں اور وہ دکاندار سے کسے کہ مجھے ردی قسم کا کھدر دے دو کھد ر لینے والا بھی وہی کھد رلے گا جو اس کی آنکھوں کو اچھا لگے گا اسی طرح اگر کوئی جوار بھی کھائے گا تو دیکھے گا کہ عمدہ قسم کی ہو نہ یہ کہ وہ ایسی تلاش کریگا جس میں آدھی مٹی ملی ہوئی ہو حالانکہ ایسی بھی حرام نہیں۔پس جب ہر چیز میں سے اعلیٰ کو پسند کیا جاتا ہے اور ہر شخص کے معیار کے مطابق ادنیٰ و اعلیٰ درجے ہیں اور ہر انسان اعلیٰ کو ہی پسند کرتا ہے اور جب رسول کریم میل و یا لیلی نے فرمایا ہے کہ امام وہ ہونا چاہئے جو اتھی ہو تو دیکھنا چاہئے کیا غیر مبائعین اتقی ہو سکتے ہیں اگر خلافت کا احترام ادنی نیکی بھی سمجھی جائے تو یہ یقینی بات ہے کہ ایک غیر مبائع اسے ترک کرتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ خلافت کا احترام کوئی