خطبات محمود (جلد 13) — Page 143
خطبات محمود ۱۴۳ سال ۱۹۳۱ء اسی طرح معابد دھرم سالہ اور مندر وغیرہ ہیں ان کا احترام بھی ضروری ہے سوائے اس کے کہ دشمن ایسی شرارت پر آمادہ ہو اور اسے محسوس کرانے کے لئے کہ یہ ہمارے لئے کس قدر باعث تکلیف ہے جو ابی طور پر کچھ کرنا پڑے۔ چنانچہ مسلمانوں نے جب کبھی مندر گرائے اسی صورت میں گراتے ہیں۔ محمود غزنوی پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اس نے مندر مسمار کئے حالانکہ اس کی یہ کار روائی جوابی تھی۔ پہلے ہندوؤں نے افغانستان پر حملے کر کے مسلمانوں کے معابد مسمار کئے اور پھر اس نے ایسا کیا۔ اور ایسی صورت میں بے شک ہمارا بھی حق ہے تا دشمن کو یہ بتایا جاسکے کہ شرافت سے کام لے اور لڑائی میں بھی آپے سے باہر نہیں ہونا چاہئے وگرنہ مندر بھی قابل احترام ہیں خواہ ان میں بت پرستی ہی کی جائے کیونکہ یہ بھی دراصل روحانیت میں ترقی کے لئے ہے گو غلط طریق ہے۔ اور یہی احساس ایک دن بت پرست کو خدا تعالی تک پہنچا سکتا ہے۔ اگر کوئی سچے دل سے بتوں کے آگے سجدہ کرتا ہے تو اس سے بھی اس کے اندر ایک ایسی نرمی پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر کوئی اس کے سامنے خدا تعالیٰ کو پیش کرے تو وہ مان لے گا۔ اس کے اندر نیت موجود ہے جس سے آدھا سفر وہ طے کر چکا ہے بقیہ آدھا جو طے کرنا ہے اتنا مشکل نہیں رہ جاتا۔ کامیابی کے لئے صحیح نیت اور صحیح راستہ کی ضرورت ہوتی ہے اور جس کے اندر صحیح نیست موجود ہو اس نے آدھا راستہ طے کر لیا بشر طیکہ وہ بناوٹ یا رسم و رواج اور آباء و اجداد کی دیکھا دیکھی ایسا نہ کرتا ہو اور اس کے اندر اخلاص اور سنجیدگی موجود ہو ۔ اس لئے ان کے معابد کا بھی احترام کرنا چاہئے ۔ ہاں اگر شرارت کریں اور ہمارے معابد کی بے بے حرمتی کریں تو فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَى عَلَيْكُم کے ماتحت تم بھی ایسا کر سکتے ہو ۔ وہ میں امید کرتا ہوں کہ ہماری جماعت جہاں عورتوں کے اندر بہادری اور جرات پیدا کرنے کی کوشش کرے گی وہاں یہ بھی خیال رکھے گی کہ سوائے اس کے کہ دوسروں کی طرف سے ابتداء کی جائے جس کے بعد بے شک اسے بھی حق ہو گا وہ دوسروں کے معابد کی جہاں وہ اپنے اپنے رنگ میں خدا کی یاد کرتے ہیں یا ان کی قومی یادگاروں کی بے حرمتی نہ کرے گی۔ ہاں جب ابتداء دوسروں کی طرف سے ہو تو اس کی ذمہ داری ان پر ہوگی ۔ اور جب ایسا ہو تو انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ مومن دلیر ہوتا ہے اور جان کی پرواہ کبھی نہیں کرتا۔ کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس وقت کونسی لڑائی در پیش ہے کہ ایسی باتیں بیان کی جاتی ہیں مگر یاد رکھنا چاہئے اسلام ہر وقت تیار رہنے کا حکم دیتا ہے۔ اگر ساری دنیا میں امن ہو تب بھی مسلمانوں کو ہمیشہ ہو شیار اور بیدار رہنا چاہئے ۔ جب یہاں