خطبات محمود (جلد 13) — Page 142
خطبات محمود ۱۳۲ سال ۱۹۳۱ء مقابلہ کے لئے نہیں نکلتے۔ حضرت سعد پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے خیال کیا جب میری بیوی کو یہ خیال ہے تو ممکن ہے دوسرے مسلمان بھی یہی سمجھتے ہوں کہ میں ڈر کی وجہ سے میدان میں نہیں آتا اس لئے شام کو انہوں نے سارا لشکر جمع کیا اور کپڑے اتار کر دکھائے کہ دیکھو میرے بدن پر سر سے پاؤں تک پھوڑے نکلے ہیں۔ د تو ابتدائی ایام میں مسلمان عورتوں نے بڑا کام کیا۔ مگر اسی وجہ سے کہ انہیں جنگوں میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا۔ رسول کریم میں یہ ہمیشہ انہیں جنگوں میں شامل رکھتے تھے ۔ لڑائی کے فنون سکھاتے تھے اور مشق کراتے تھے۔ مگر اب مسلمانوں نے یہ باتیں چھوڑ دی ہیں۔ میں نے لجنہ اماء اللہ قائم کی ہیں مگر وہ ابتدائی حالت میں ہیں۔ بعض عورتیں بعض اوقات ہمت دکھاتی ہیں مگر کئی ہمت ہار بیٹھتی ہیں ۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم انہیں دلیر بنائیں۔ اور اگر لڑائی میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں کر سکتے تو کم از کم ان کے اندر اتنی جرأت تو پیدا کر دیں کہ اگر ہم میں سے کوئی اسلام کے لئے جان دینے کے لئے جائے تو انہیں بجائے صدمہ کے اس خیال سے خوشی ہو کہ اس ثواب میں ہم بھی شریک ہیں۔ جو آدمی جنگ کے لئے ایسی حالت میں نکلتا ہے کہ اپنے گھر والوں کے دل ٹوٹے ہوئے دیکھتا ہے ۔ وہ خود شکستہ دل ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر اسے یہ محسوس ہو کہ گو فطری طور پر میرے گھر والوں کو میری جدائی کا غم ہے مگر وہ خوش بھی ہیں اور اگر چہ دعا کرتے ہیں خدا تعالیٰ میری حفاظت کرے لیکن اگر میں شہید ہو جاؤں تو بھی انہیں خوشی ہی ہو گی تو وہ اپنے اندر خاص دلیری جرأت محسوس کرے گا۔ اس کرے گا۔ اگر ہم مذہب کو سچا سمجھتے ہیں تو موت کیا چیز ہے؟ یہ تو ایک د یہ تو ایک دروازه ہے خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا اور خدا تعالیٰ کے راستہ میں تکالیف اٹھانے سے بڑھ کر انعام اور کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن یہ بھی یاد رکھو ابلا وجہ دوسری قوموں کی دل شکنی کسی طرح جائز نہیں مسلمان کو ہمیشہ خود حفاظتی کے لئے اٹھنا چاہئے۔ صلح میں بھی اور جنگ میں بھی۔ مسلمان کو دوسروں کے مذاہب کا احترام کرنا چاہئیے جب تک وہ مجبور نہ ہو جائے ۔ جب مخالفین ہمارے بزرگوں کو گالیاں دیں اور کسی طرح باز نہ آئیں تو ایک لمبے عرصہ تک صبر کرنے کے بعد ہم بھی جواب دے سکتے ہیں تا انہیں محسوس ہو کہ ان کا رویہ ہمارے لئے کس قدر تکلیف دہ ہے۔ رسول کریم ملی ام نے فرمایا ہے اگر مو اسید قوم ہے کہ دوسروں کے بزرگوں کا احترام کرو ۔ اور لوگ خواہ کریں مواس یا نہ کریں ہمارا فرض ہے کہ کریں سوائے اس کے کہ وہ باز نہ آئیں اور برابر ہماری دل آزاری کرتے جائیں۔ اس صورت میں اگر جوابی طور پر ہماری طرف سے کچھ کہا جائے تو وہ جائز ہے۔ اور جرا